نیو یارک( ویب ڈیسک)دنیا بھر میں آئی فون صارفین جہاں آئی فون 18 سیریز کی آمد کے منتظر ہیں، وہیں ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹم کک نے لانچ سے قبل ہی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دے دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی فون 18 سیریز کے اجرا میں ابھی تقریباً تین ماہ باقی ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور خاص طور پر میموری چپس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث نئی ڈیوائسز مہنگی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں ٹم کک نے کہا کہ ایپل اب تک کوشش کرتا رہا ہے کہ اضافی لاگت صارفین تک منتقل نہ ہو، لیکن موجودہ معاشی صورتحال میں اس رجحان کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ کن مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی، تاہم ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ اثر آئی فون 18 سیریز پر پڑنے کا امکان ہے۔رپورٹس کے مطابق نئے ماڈلز کی قیمتیں آئی فون 17 سیریز کے مقابلے میں تقریباً دو سو ڈالر تک زیادہ ہو سکتی ہیں، جبکہ آئی فون 18 پرو میں استعمال ہونے والے پرزہ جات کی لاگت میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث میموری اور اسٹوریج چپس کی عالمی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس نے سپلائی چین پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئی فون 18 سیریز نہ صرف نئی خصوصیات کی وجہ سے بلکہ اپنی بلند قیمت کے باعث بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن سکتی ہے۔
آئی فون 18 سیریز مہنگی ہونے کا امکان، ٹم کک نے قیمتوں میں اضافے کا اشارہ دے دیا
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی