تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

فلوریڈا میں اوپن اے آئی اور سی ای او سیم آلٹمین کے خلاف مقدمہ دائر

فلوریڈا میں اوپن اے آئی اور سی ای او سیم آلٹمین کے خلاف مقدمہ دائر

فلوریڈا، امریکا (ویب ڈیسک)امریکی ریاست فلوریڈا نے پیر کے روز ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی اور اس کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کمپنی نے جان بوجھ کر چیٹ جی پی ٹی کو عوام کے لیے جاری کیا اور اس سے جڑے سنگین خطرات کو چھپایا۔فلوریڈا کے اٹارنی جنرل جیمز اُتھمیئر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اوپن اے آئی نے اندرونی حفاظتی انتباہات کو نظر انداز کیا اور صارفین کو اس پروڈکٹ کی اصل نوعیت اور ممکنہ خطرات کے بارے میں گمراہ کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ ریاستی سطح پر اوپن اے آئی اور اس کے سی ای او کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق کمپنی نے اندرونی اور بیرونی حفاظتی وارننگز کو نظر انداز کیا، بچوں کو خطرے میں ڈالا اور ایک خطرناک ٹیکنالوجی لاکھوں شہریوں تک پہنچنے دی۔شکایت میں دو الگ فائرنگ کے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں مبینہ حملہ آوروں نے اپنے جرائم کی منصوبہ بندی کے دوران چیٹ جی پی ٹی سے سوالات کیے تھے۔دوسری جانب اوپن اے آئی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اس کے ماڈلز نے بار بار ان افراد کو حقیقی دنیا میں مدد لینے کی ترغیب دی، جس میں ذہنی صحت کے ماہرین سے رابطہ کرنے کی ہدایات بھی شامل تھیں۔کمپنی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ان دونوں واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر چکی ہے۔