تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

ملائیشیا میں سوشل میڈیا کے لیے عمر کی تصدیق لازمی، 16 سال سے کم عمر پر پابندی

ملائیشیا میں سوشل میڈیا کے لیے عمر کی تصدیق لازمی، 16 سال سے کم عمر پر پابندی

کوالالمپور ( ویب ڈیسک) ملائیشیا نے نئے آن لائن سیفٹی قواعد نافذ کرتے ہوئے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے صارفین کی عمر کی تصدیق لازمی قرار دے دی ہے، جبکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹ بنانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔نئے قواعد ان تمام پلیٹ فارمز پر لاگو ہوں گے جن کے ملک میں کم از کم 80 لاکھ صارفین موجود ہیں، جن میں فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب شامل ہیں۔ تاہم ریگولیٹرز کے مطابق ان قوانین پر مکمل عملدرآمد کے لیے کمپنیوں کو محدود مہلت دی جائے گی، جس کی مدت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ملائیشیا کے کمیونی کیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن کے مطابق عمر کی تصدیق کے لیے صارفین کو قومی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ جیسے سرکاری دستاویزات کے ذریعے اپنی عمر ثابت کرنا ہوگی۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بچوں اور نوعمروں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، کیونکہ دنیا بھر میں کم عمر صارفین کی آن لائن حفاظت پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں، جو ایک کروڑ ملائیشین رنگٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔اس سے قبل آسٹریلیا اور انڈونیشیا سمیت کئی ممالک بھی کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے ایسے ہی اقدامات کر چکے ہیں، جبکہ یورپ کے مختلف ممالک بھی اسی نوعیت کی پالیسیوں پر غور یا عمل درآمد کر رہے ہیں۔دوسری جانب انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار کے بعض اداروں نے ان پابندیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے دور کرنے کے بجائے انہیں محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دینا زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔