تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

ملائیشیا میں سوشل میڈیا کے لیے عمر کی تصدیق لازمی، 16 سال سے کم عمر پر پابندی

ملائیشیا میں سوشل میڈیا کے لیے عمر کی تصدیق لازمی، 16 سال سے کم عمر پر پابندی

کوالالمپور ( ویب ڈیسک) ملائیشیا نے نئے آن لائن سیفٹی قواعد نافذ کرتے ہوئے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے صارفین کی عمر کی تصدیق لازمی قرار دے دی ہے، جبکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹ بنانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔نئے قواعد ان تمام پلیٹ فارمز پر لاگو ہوں گے جن کے ملک میں کم از کم 80 لاکھ صارفین موجود ہیں، جن میں فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب شامل ہیں۔ تاہم ریگولیٹرز کے مطابق ان قوانین پر مکمل عملدرآمد کے لیے کمپنیوں کو محدود مہلت دی جائے گی، جس کی مدت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ملائیشیا کے کمیونی کیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن کے مطابق عمر کی تصدیق کے لیے صارفین کو قومی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ جیسے سرکاری دستاویزات کے ذریعے اپنی عمر ثابت کرنا ہوگی۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بچوں اور نوعمروں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، کیونکہ دنیا بھر میں کم عمر صارفین کی آن لائن حفاظت پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں، جو ایک کروڑ ملائیشین رنگٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔اس سے قبل آسٹریلیا اور انڈونیشیا سمیت کئی ممالک بھی کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے ایسے ہی اقدامات کر چکے ہیں، جبکہ یورپ کے مختلف ممالک بھی اسی نوعیت کی پالیسیوں پر غور یا عمل درآمد کر رہے ہیں۔دوسری جانب انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار کے بعض اداروں نے ان پابندیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے دور کرنے کے بجائے انہیں محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دینا زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔