تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

ملائیشیا میں سوشل میڈیا کے لیے عمر کی تصدیق لازمی، 16 سال سے کم عمر پر پابندی

ملائیشیا میں سوشل میڈیا کے لیے عمر کی تصدیق لازمی، 16 سال سے کم عمر پر پابندی

کوالالمپور ( ویب ڈیسک) ملائیشیا نے نئے آن لائن سیفٹی قواعد نافذ کرتے ہوئے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے صارفین کی عمر کی تصدیق لازمی قرار دے دی ہے، جبکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹ بنانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔نئے قواعد ان تمام پلیٹ فارمز پر لاگو ہوں گے جن کے ملک میں کم از کم 80 لاکھ صارفین موجود ہیں، جن میں فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب شامل ہیں۔ تاہم ریگولیٹرز کے مطابق ان قوانین پر مکمل عملدرآمد کے لیے کمپنیوں کو محدود مہلت دی جائے گی، جس کی مدت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ملائیشیا کے کمیونی کیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن کے مطابق عمر کی تصدیق کے لیے صارفین کو قومی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ جیسے سرکاری دستاویزات کے ذریعے اپنی عمر ثابت کرنا ہوگی۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بچوں اور نوعمروں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، کیونکہ دنیا بھر میں کم عمر صارفین کی آن لائن حفاظت پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں، جو ایک کروڑ ملائیشین رنگٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔اس سے قبل آسٹریلیا اور انڈونیشیا سمیت کئی ممالک بھی کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے ایسے ہی اقدامات کر چکے ہیں، جبکہ یورپ کے مختلف ممالک بھی اسی نوعیت کی پالیسیوں پر غور یا عمل درآمد کر رہے ہیں۔دوسری جانب انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار کے بعض اداروں نے ان پابندیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے دور کرنے کے بجائے انہیں محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دینا زیادہ مؤثر طریقہ ہے۔