تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

فرانس کے اسپتال میں گدھوں سے ذہنی علاج نے سب کو حیران کردیا

فرانس کے اسپتال میں گدھوں سے ذہنی علاج نے سب کو حیران کردیا

پیرس ( ویب ڈیسک)فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مضافات میں واقع ایک نفسیاتی اسپتال میں ذہنی امراض کے علاج کے لیے ایک انوکھا اور پُرسکون طریقہ اپنایا جا رہا ہے، جس میں مریضوں کو گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع دیا جاتا ہے۔یہ منفرد طبی منصوبہ ویل ایورارڈ اسپتال میں جاری ہے، جہاں روایتی علاج کے ساتھ ساتھ مریضوں کو ایک فطری اور ذہنی سکون فراہم کرنے والی سرگرمی میں شامل کیا جاتا ہے۔اس طریقہ علاج کے تحت مریض گدھوں کو ساتھ لے کر سیر کرتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جذباتی وابستگی قائم کرتے ہیں، جس سے ان کی ذہنی کیفیت میں بہتری محسوس کی جاتی ہے۔حالیہ سیشنز کے دوران مریضوں نے متعدد گدھوں کے ساتھ وقت گزارا اور رخصت ہوتے وقت انہیں محبت اور اپنائیت کے ساتھ گلے بھی لگایا۔اسپتال میں زیرِ علاج ایک مریضہ نے بتایا کہ گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں وہی سکون ملتا ہے جو بعض اوقات دواؤں سے حاصل ہوتا ہے، اور اس عمل سے ذہنی دباؤ میں واضح کمی آتی ہے۔اس علاجی عمل میں ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج کو سمجھ سکیں اور ایک مضبوط ربط قائم ہو سکے۔اسپتال کی ایک نرس کے مطابق اس طریقہ علاج کے بعد کئی مریضوں کی حالت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، خاص طور پر ان مریضوں میں جو ابتدا میں شدید ذہنی دباؤ اور جسمانی کمزوری کا شکار تھے۔انتظامیہ کے مطابق یہ طریقہ علاج مریضوں کو اعتماد، سکون اور ذہنی توازن فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے اور اسے ایک مؤثر معاون علاج کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔