تازہ ترین
جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا حج 2027ء کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز، ابتدائی مرحلے میں پاسپورٹ لازمی نہیں گلگت بلتستان اسمبلی: 30 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی کوششیں کمزور پڑ گئی ہیں: علی امین گنڈاپور ٹرمپ کی نیٹو اتحادیوں پر تنقید، ایران معاملے پر اٹلی کو بھی ہدف یوکرین جانے والے ترک مال بردار جہاز پر روسی ڈرون حملہ، مصری شہری ہلاک اسماعیل قانی کی اسرائیل کو جنوبی لبنان سے فوری انخلا کی وارننگ ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ، معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت نیویارک میں کنسرٹ کے دوران افسوسناک حادثہ، ایک شخص جاں بحق ایران امریکا مذاکرات کی افواہیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، ڈالر معمولی سستا ڈیزل کی قیمت میں کمی، ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فیصد تک کمی کا اعلان ورلڈ کپ 2026 میں اون گولز کی غیر معمولی زیادتی، ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان بھارت اے کی ٹرائی سیریز فائنل میں فتح، سری لنکا اے کو 66 رنز سے شکست ورلڈ کپ 2026: جرمن ٹیم کو امریکا میں سخت سیکیورٹی چیک کا سامنا، ویڈیو وائرل ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بنگلہ دیش نے پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے دی
پاکستان خبر

خلا میں روسی سیٹلائٹس کی پراسرار قربت، ماہرین میں تشویش

خلا میں روسی سیٹلائٹس کی پراسرار قربت، ماہرین میں تشویش

ماسکو( ویب ڈیسک)ماسکو میں روس کے دو فوجی سیٹلائٹس کی خلا میں غیر معمولی اور پراسرار حرکت نے عالمی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔رپورٹس کے مطابق کوسموس 2581 اور کوسموس 2583 نامی یہ سیٹلائٹس، جنہیں فروری 2025 میں روس کوسموس نے خلا میں بھیجا تھا، گزشتہ ہفتے زمین سے تقریباً 585 کلومیٹر کی بلندی پر انتہائی قریب آ گئے۔ماہرین کے مطابق دونوں سیٹلائٹس کے درمیان فاصلہ صرف چند میٹر رہ گیا، جو خلا میں ایک غیر معمولی اور حساس صورتحال سمجھی جاتی ہے۔اس واقعے کی نگرانی امریکی خلائی نگرانی کمپنی کومسپوک نے کی، جس نے اسے ایک پیچیدہ اور غیر معمولی مدار ی حرکت قرار دیا ہے۔کمپنی کے مطابق سیٹلائٹس کی حرکات معمول کے مطابق سیدھی گزرنے جیسی نہیں تھیں بلکہ باریک اور کنٹرولڈ انداز میں کی گئیں، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کوئی تجرباتی یا جدید تکنیکی سرگرمی ہو سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی قریبی حرکات خلا میں ممکنہ ٹکراؤ کے خطرات اور سیٹلائٹ نگرانی کے نظام پر اہم سوالات پیدا کرتی ہیں۔