تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

لیتھیم نکالنے کا نیا مؤثر اور کم آلودہ طریقہ تیار، توانائی شعبے میں بڑی پیش رفت

لیتھیم نکالنے کا نیا مؤثر اور کم آلودہ طریقہ تیار، توانائی شعبے میں بڑی پیش رفت

نیویارک ( ویب ڈیسک) کولمبیا یونیورسٹی کے انجینئرنگ اور سائنسز کے محققین نے لیتھیم حاصل کرنے کے ایک نئے اور جدید طریقہ کار پر تحقیق مکمل کی ہے، جو اس عمل کو زیادہ تیز، کم مہنگا اور ماحول دوست بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تحقیق کے مطابق دنیا میں الیکٹرک گاڑیوں اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے لیتھیم کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اس کی روایتی پیداوار کا عمل سست، مہنگا اور ماحول کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔نئی ٹیکنالوجی کو “سوئچ ایبل سالوینٹ سلیکٹو ایکسٹریکشن” کہا گیا ہے، جو ایک خاص محلول پر مبنی نظام ہے اور درجہ حرارت کے مطابق ردِعمل دیتے ہوئے زیرِ زمین نمکین پانی سے براہِ راست لیتھیم کو الگ کرتا ہے۔محققین کے مطابق یہ طریقہ اس وقت بھی مؤثر ثابت ہوا جب پانی میں لیتھیم کی مقدار بہت کم تھی یا وہ دیگر معدنیات کے ساتھ ملی ہوئی تھی، جنہیں روایتی طریقوں سے الگ کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔تحقیقی ٹیم نے بتایا کہ تجربات میں اس نظام نے سوڈیم کے مقابلے میں دس گنا اور پوٹاشیم کے مقابلے میں بارہ گنا زیادہ تیزی سے لیتھیم کو الگ کیا۔مزید بتایا گیا کہ یہ طریقہ میگنیشیم جیسے مشکل عناصر کو بھی مؤثر انداز میں الگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے لیتھیم نکالنے کے عمل میں بڑی بہتری آ سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی صنعتی سطح پر کامیاب ہو جاتی ہے تو الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی لاگت میں نمایاں کمی ممکن ہو سکے گی، جس سے صاف توانائی کے منصوبوں کو بھی فروغ ملے گا۔