نیویارک ( ویب ڈیسک) کولمبیا یونیورسٹی کے انجینئرنگ اور سائنسز کے محققین نے لیتھیم حاصل کرنے کے ایک نئے اور جدید طریقہ کار پر تحقیق مکمل کی ہے، جو اس عمل کو زیادہ تیز، کم مہنگا اور ماحول دوست بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تحقیق کے مطابق دنیا میں الیکٹرک گاڑیوں اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے لیتھیم کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اس کی روایتی پیداوار کا عمل سست، مہنگا اور ماحول کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔نئی ٹیکنالوجی کو “سوئچ ایبل سالوینٹ سلیکٹو ایکسٹریکشن” کہا گیا ہے، جو ایک خاص محلول پر مبنی نظام ہے اور درجہ حرارت کے مطابق ردِعمل دیتے ہوئے زیرِ زمین نمکین پانی سے براہِ راست لیتھیم کو الگ کرتا ہے۔محققین کے مطابق یہ طریقہ اس وقت بھی مؤثر ثابت ہوا جب پانی میں لیتھیم کی مقدار بہت کم تھی یا وہ دیگر معدنیات کے ساتھ ملی ہوئی تھی، جنہیں روایتی طریقوں سے الگ کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔تحقیقی ٹیم نے بتایا کہ تجربات میں اس نظام نے سوڈیم کے مقابلے میں دس گنا اور پوٹاشیم کے مقابلے میں بارہ گنا زیادہ تیزی سے لیتھیم کو الگ کیا۔مزید بتایا گیا کہ یہ طریقہ میگنیشیم جیسے مشکل عناصر کو بھی مؤثر انداز میں الگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے لیتھیم نکالنے کے عمل میں بڑی بہتری آ سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی صنعتی سطح پر کامیاب ہو جاتی ہے تو الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی لاگت میں نمایاں کمی ممکن ہو سکے گی، جس سے صاف توانائی کے منصوبوں کو بھی فروغ ملے گا۔
لیتھیم نکالنے کا نیا مؤثر اور کم آلودہ طریقہ تیار، توانائی شعبے میں بڑی پیش رفت
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی