تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

لیتھیم نکالنے کا نیا مؤثر اور کم آلودہ طریقہ تیار، توانائی شعبے میں بڑی پیش رفت

لیتھیم نکالنے کا نیا مؤثر اور کم آلودہ طریقہ تیار، توانائی شعبے میں بڑی پیش رفت

نیویارک ( ویب ڈیسک) کولمبیا یونیورسٹی کے انجینئرنگ اور سائنسز کے محققین نے لیتھیم حاصل کرنے کے ایک نئے اور جدید طریقہ کار پر تحقیق مکمل کی ہے، جو اس عمل کو زیادہ تیز، کم مہنگا اور ماحول دوست بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تحقیق کے مطابق دنیا میں الیکٹرک گاڑیوں اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے لیتھیم کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اس کی روایتی پیداوار کا عمل سست، مہنگا اور ماحول کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔نئی ٹیکنالوجی کو “سوئچ ایبل سالوینٹ سلیکٹو ایکسٹریکشن” کہا گیا ہے، جو ایک خاص محلول پر مبنی نظام ہے اور درجہ حرارت کے مطابق ردِعمل دیتے ہوئے زیرِ زمین نمکین پانی سے براہِ راست لیتھیم کو الگ کرتا ہے۔محققین کے مطابق یہ طریقہ اس وقت بھی مؤثر ثابت ہوا جب پانی میں لیتھیم کی مقدار بہت کم تھی یا وہ دیگر معدنیات کے ساتھ ملی ہوئی تھی، جنہیں روایتی طریقوں سے الگ کرنا مشکل سمجھا جاتا ہے۔تحقیقی ٹیم نے بتایا کہ تجربات میں اس نظام نے سوڈیم کے مقابلے میں دس گنا اور پوٹاشیم کے مقابلے میں بارہ گنا زیادہ تیزی سے لیتھیم کو الگ کیا۔مزید بتایا گیا کہ یہ طریقہ میگنیشیم جیسے مشکل عناصر کو بھی مؤثر انداز میں الگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے لیتھیم نکالنے کے عمل میں بڑی بہتری آ سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی صنعتی سطح پر کامیاب ہو جاتی ہے تو الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی لاگت میں نمایاں کمی ممکن ہو سکے گی، جس سے صاف توانائی کے منصوبوں کو بھی فروغ ملے گا۔