تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

مصنوعی ذہانت کی تربیت کیلئے نیا نگران نظام متعارف

مصنوعی ذہانت کی تربیت کیلئے نیا نگران نظام متعارف

کیلیفونیا( ویب ڈیسک)میٹا نے اپنے ملازمین کے کمپیوٹروں پر ایک خصوصی نگران سافٹ ویئر نصب کیا ہے، جس کا مقصد روزمرہ دفتری سرگرمیوں کا مشاہدہ اور تجزیہ کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ نظام عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں بلکہ صرف کمپنی کے اندرونی استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ خاموشی سے پس منظر میں کام کرتا ہے اور کمپیوٹر استعمال کرنے والے ملازمین کی مختلف سرگرمیوں کا ریکارڈ محفوظ کرتا ہے۔یہ سافٹ ویئر ماؤس کی حرکت، مختلف مقامات پر کلک، مواد کی نقل اور دفتری پروگراموں یا ویب صفحات کے استعمال جیسے امور کا مشاہدہ کرتا ہے تاکہ کمپیوٹر پر کام کرنے کے انسانی انداز کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ملازمین کی نگرانی کرنا نہیں بلکہ یہ جاننا ہے کہ لوگ اپنے روزمرہ کے دفتری کام کس طریقے سے انجام دیتے ہیں۔جمع کیے گئے اعداد و شمار کی مدد سے میٹا اپنے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو تربیت دینا چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے خودکار معاون تیار کیے جا سکیں جو انسانوں کی طرح کمپیوٹر پر مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ماہرین کے مطابق اس قسم کی ٹیکنالوجی مستقبل میں دفتری امور کو زیادہ خودکار اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ رازداری اور معلومات کے تحفظ سے متعلق سوالات بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔