تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

مصنوعی ذہانت کی تربیت کیلئے نیا نگران نظام متعارف

مصنوعی ذہانت کی تربیت کیلئے نیا نگران نظام متعارف

کیلیفونیا( ویب ڈیسک)میٹا نے اپنے ملازمین کے کمپیوٹروں پر ایک خصوصی نگران سافٹ ویئر نصب کیا ہے، جس کا مقصد روزمرہ دفتری سرگرمیوں کا مشاہدہ اور تجزیہ کرنا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ نظام عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں بلکہ صرف کمپنی کے اندرونی استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ خاموشی سے پس منظر میں کام کرتا ہے اور کمپیوٹر استعمال کرنے والے ملازمین کی مختلف سرگرمیوں کا ریکارڈ محفوظ کرتا ہے۔یہ سافٹ ویئر ماؤس کی حرکت، مختلف مقامات پر کلک، مواد کی نقل اور دفتری پروگراموں یا ویب صفحات کے استعمال جیسے امور کا مشاہدہ کرتا ہے تاکہ کمپیوٹر پر کام کرنے کے انسانی انداز کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ملازمین کی نگرانی کرنا نہیں بلکہ یہ جاننا ہے کہ لوگ اپنے روزمرہ کے دفتری کام کس طریقے سے انجام دیتے ہیں۔جمع کیے گئے اعداد و شمار کی مدد سے میٹا اپنے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو تربیت دینا چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے خودکار معاون تیار کیے جا سکیں جو انسانوں کی طرح کمپیوٹر پر مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ماہرین کے مطابق اس قسم کی ٹیکنالوجی مستقبل میں دفتری امور کو زیادہ خودکار اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ رازداری اور معلومات کے تحفظ سے متعلق سوالات بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں۔