تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

مچھر بھی سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ڈیٹ ریپیلنٹ کا اثر تبدیل ہو سکتا ہے،نئی تحقیق

مچھر بھی سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ڈیٹ ریپیلنٹ کا اثر تبدیل ہو سکتا ہے،نئی تحقیق

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)ایک نئی سائنسی تحقیق میں مچھروں سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کے حوالے سے حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے۔جرنل آف ایکسپیریمنٹل بائیولوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق مچھر نہ صرف سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ وہ وقت کے ساتھ ڈیٹ نامی عام ریپیلنٹ کی خوشبو کو بھی مختلف انداز میں قبول یا برداشت کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ڈیٹ، جسے اس کے کیمیائی نام این-ڈائی ایتھائل میٹا ٹولوامائیڈ سے بھی جانا جاتا ہے، دنیا بھر میں مچھروں کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے اجزاء میں سے ایک ہے۔یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق مچھروں سے تحفظ کے لیے پچاس فیصد ڈیٹ پر مشتمل ریپیلنٹس کو مؤثر ترین طریقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ تحقیق فرانس کی یونیورسٹی آف ٹورز کے محقق کلاؤڈیو لزاری کی قیادت میں کی گئی، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ مچھروں کو ڈیٹ کی بو کو خون حاصل کرنے کے تجربے کے ساتھ جوڑنے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔محققین کے مطابق ماضی میں سائنس دانوں کا خیال تھا کہ ریپیلنٹس صرف اپنی کیمیائی خصوصیات کی وجہ سے مؤثر ہوتے ہیں، یعنی یہ یا تو مچھروں کو دور رکھتے ہیں یا انسانوں کو تلاش کرنے کی ان کی صلاحیت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ تاہم نئی تحقیق اس نظریے کو چیلنج کرتی ہے۔کلاؤڈیو لزاری کا کہنا ہے کہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ مچھروں کا ردعمل ان کے تجربات اور سیکھنے کے عمل کے ذریعے تبدیل ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق یہ دریافت ریپیلنٹس کے بارے میں سائنسی سمجھ میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے اور مستقبل میں مچھروں سے بچاؤ کے نئے طریقوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔