تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

مچھر بھی سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ڈیٹ ریپیلنٹ کا اثر تبدیل ہو سکتا ہے،نئی تحقیق

مچھر بھی سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ڈیٹ ریپیلنٹ کا اثر تبدیل ہو سکتا ہے،نئی تحقیق

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)ایک نئی سائنسی تحقیق میں مچھروں سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کے حوالے سے حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے۔جرنل آف ایکسپیریمنٹل بائیولوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق مچھر نہ صرف سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ وہ وقت کے ساتھ ڈیٹ نامی عام ریپیلنٹ کی خوشبو کو بھی مختلف انداز میں قبول یا برداشت کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ڈیٹ، جسے اس کے کیمیائی نام این-ڈائی ایتھائل میٹا ٹولوامائیڈ سے بھی جانا جاتا ہے، دنیا بھر میں مچھروں کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے اجزاء میں سے ایک ہے۔یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق مچھروں سے تحفظ کے لیے پچاس فیصد ڈیٹ پر مشتمل ریپیلنٹس کو مؤثر ترین طریقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ تحقیق فرانس کی یونیورسٹی آف ٹورز کے محقق کلاؤڈیو لزاری کی قیادت میں کی گئی، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ مچھروں کو ڈیٹ کی بو کو خون حاصل کرنے کے تجربے کے ساتھ جوڑنے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔محققین کے مطابق ماضی میں سائنس دانوں کا خیال تھا کہ ریپیلنٹس صرف اپنی کیمیائی خصوصیات کی وجہ سے مؤثر ہوتے ہیں، یعنی یہ یا تو مچھروں کو دور رکھتے ہیں یا انسانوں کو تلاش کرنے کی ان کی صلاحیت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ تاہم نئی تحقیق اس نظریے کو چیلنج کرتی ہے۔کلاؤڈیو لزاری کا کہنا ہے کہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ مچھروں کا ردعمل ان کے تجربات اور سیکھنے کے عمل کے ذریعے تبدیل ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق یہ دریافت ریپیلنٹس کے بارے میں سائنسی سمجھ میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے اور مستقبل میں مچھروں سے بچاؤ کے نئے طریقوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔