تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

مچھر بھی سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ڈیٹ ریپیلنٹ کا اثر تبدیل ہو سکتا ہے،نئی تحقیق

مچھر بھی سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ڈیٹ ریپیلنٹ کا اثر تبدیل ہو سکتا ہے،نئی تحقیق

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)ایک نئی سائنسی تحقیق میں مچھروں سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کے حوالے سے حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے۔جرنل آف ایکسپیریمنٹل بائیولوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق مچھر نہ صرف سیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ وہ وقت کے ساتھ ڈیٹ نامی عام ریپیلنٹ کی خوشبو کو بھی مختلف انداز میں قبول یا برداشت کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ڈیٹ، جسے اس کے کیمیائی نام این-ڈائی ایتھائل میٹا ٹولوامائیڈ سے بھی جانا جاتا ہے، دنیا بھر میں مچھروں کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے اجزاء میں سے ایک ہے۔یو کے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق مچھروں سے تحفظ کے لیے پچاس فیصد ڈیٹ پر مشتمل ریپیلنٹس کو مؤثر ترین طریقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ تحقیق فرانس کی یونیورسٹی آف ٹورز کے محقق کلاؤڈیو لزاری کی قیادت میں کی گئی، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ مچھروں کو ڈیٹ کی بو کو خون حاصل کرنے کے تجربے کے ساتھ جوڑنے کی تربیت دی جا سکتی ہے۔محققین کے مطابق ماضی میں سائنس دانوں کا خیال تھا کہ ریپیلنٹس صرف اپنی کیمیائی خصوصیات کی وجہ سے مؤثر ہوتے ہیں، یعنی یہ یا تو مچھروں کو دور رکھتے ہیں یا انسانوں کو تلاش کرنے کی ان کی صلاحیت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ تاہم نئی تحقیق اس نظریے کو چیلنج کرتی ہے۔کلاؤڈیو لزاری کا کہنا ہے کہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ مچھروں کا ردعمل ان کے تجربات اور سیکھنے کے عمل کے ذریعے تبدیل ہو سکتا ہے۔ان کے مطابق یہ دریافت ریپیلنٹس کے بارے میں سائنسی سمجھ میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے اور مستقبل میں مچھروں سے بچاؤ کے نئے طریقوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔