تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

سورج سے طاقتور شمسی طوفان، زمین کے لیے جیو میگنیٹک الرٹ جاری

سورج سے طاقتور شمسی طوفان، زمین کے لیے جیو میگنیٹک الرٹ جاری

واشنگٹن( ویب ڈیسک) امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا اور خلائی موسم کی پیشگوئی کے مرکز نے سورج سے خارج ہونے والے طاقتور شمسی اخراج کے زمین کی جانب بڑھنے پر شدید نوعیت کے جیو میگنیٹک طوفان کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ماہرین کے مطابق سورج گزشتہ کئی روز سے غیر معمولی سرگرمی دکھا رہا ہے اور اس کی سطح سے مسلسل توانائی اور مقناطیسی ذرات خارج ہو رہے ہیں۔چھ جون دو ہزار چھبیس کو سورج کے ایک مخصوص فعال حصے میں درمیانے درجے کا ایک زوردار شمسی شعلہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں چارج شدہ ذرات کا بڑا بادل خلا میں پھیل گیا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تیز رفتار شمسی مواد تقریباً چودہ سو کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین کی سمت بڑھ رہا ہے، جس کے باعث اسے جیو میگنیٹک طوفان کے تیسرے درجے کی شدت قرار دیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق جب سورج سے آنے والے ذرات زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکراتے ہیں تو آسمان پر رنگین روشنیاں پیدا ہوتی ہیں جنہیں قطبی روشنیاں کہا جاتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر طوفان کی شدت بڑھی تو یہ روشنیاں قطبی علاقوں سے باہر بھی دیکھی جا سکتی ہیں، جن میں چین، بھارت کے کچھ علاقے، یورپ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکا کے بعض حصے شامل ہیں۔سائنسدانوں کے مطابق طوفان کے حتمی اثرات کا اندازہ اس وقت لگایا جائے گا جب یہ شمسی ذرات زمین کے قریب موجود مصنوعی سیاروں تک پہنچیں گے، جس سے ممکنہ اثرات کی مزید درست معلومات حاصل ہوں گی۔