تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

سورج سے طاقتور شمسی طوفان، زمین کے لیے جیو میگنیٹک الرٹ جاری

سورج سے طاقتور شمسی طوفان، زمین کے لیے جیو میگنیٹک الرٹ جاری

واشنگٹن( ویب ڈیسک) امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا اور خلائی موسم کی پیشگوئی کے مرکز نے سورج سے خارج ہونے والے طاقتور شمسی اخراج کے زمین کی جانب بڑھنے پر شدید نوعیت کے جیو میگنیٹک طوفان کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ماہرین کے مطابق سورج گزشتہ کئی روز سے غیر معمولی سرگرمی دکھا رہا ہے اور اس کی سطح سے مسلسل توانائی اور مقناطیسی ذرات خارج ہو رہے ہیں۔چھ جون دو ہزار چھبیس کو سورج کے ایک مخصوص فعال حصے میں درمیانے درجے کا ایک زوردار شمسی شعلہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں چارج شدہ ذرات کا بڑا بادل خلا میں پھیل گیا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تیز رفتار شمسی مواد تقریباً چودہ سو کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین کی سمت بڑھ رہا ہے، جس کے باعث اسے جیو میگنیٹک طوفان کے تیسرے درجے کی شدت قرار دیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق جب سورج سے آنے والے ذرات زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکراتے ہیں تو آسمان پر رنگین روشنیاں پیدا ہوتی ہیں جنہیں قطبی روشنیاں کہا جاتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر طوفان کی شدت بڑھی تو یہ روشنیاں قطبی علاقوں سے باہر بھی دیکھی جا سکتی ہیں، جن میں چین، بھارت کے کچھ علاقے، یورپ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکا کے بعض حصے شامل ہیں۔سائنسدانوں کے مطابق طوفان کے حتمی اثرات کا اندازہ اس وقت لگایا جائے گا جب یہ شمسی ذرات زمین کے قریب موجود مصنوعی سیاروں تک پہنچیں گے، جس سے ممکنہ اثرات کی مزید درست معلومات حاصل ہوں گی۔