تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

پاکستان میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم کا فروغ، نوجوانوں کے لیے نئے روزگار کے مواقع ہو نگے: شزہ فاطمہ خواجہ

پاکستان میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم کا فروغ، نوجوانوں کے لیے نئے روزگار کے مواقع ہو نگے: شزہ فاطمہ خواجہ

اسلام آباد( ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے نوجوان باصلاحیت ہیں اور فری لانسنگ سمیت مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے روزگار حاصل کر رہے ہیں۔اسلام آباد میں منعقدہ “اے آئی سیکھو 2026” کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیم اور جدید ہنر سیکھنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں اور زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع حاصل کر سکیں۔واضح رہے کہ حکومت نے گوگل فار ڈیویلپرز کے تعاون سے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی نار اور انوویٹا کے اشتراک سے “اے آئی سیکھو 2026” پروگرام شروع کیا ہے۔اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں اور ڈویلپرز کو مصنوعی ذہانت کی مفت تربیت فراہم کرنا ہے، جبکہ اس کے تحت پہلی بار “وائب کوڈنگ” کا تصور بھی متعارف کرایا جا رہا ہے، جس میں صارف سادہ ہدایات کے ذریعے ایپلیکیشنز اور گیمز تیار کر سکیں گے۔