تازہ ترین
ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان کا مذاکرات کا مطا لبہ الیکشن قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ، الیکشن کمیشن نے لیگل ریفارمز کمیٹی فعال کر دی وفاقی آئینی عدالت کے اہم فیصلے، حارث اسٹیل ملز ریفرنس پر نیب کو نوٹس صدر زرداری نے تین اہم سمریوں کی منظوری دے دی امریکا کا ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ، بندر عباس سمیت اہم عسکری تنصیبات نشانے پر ایران کا کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ میانمار کے قریب دو کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی ہلاکت کا خدشہ برطانیہ میں 14 سالہ لڑکے پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج پاکستان، ترکیہ بزنس کانفرنس میں سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان کی سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کے رعایتی آئل فنانسنگ پیکیج کی درخواست سیاسی بینر لہرانے پر ارجنٹائن کو فیفا کارروائی کا سامنا متو قع واشنگٹن فریڈم نے ٹی ٹوئنٹی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف حاصل کر لیا ماڈل ہما سلیم کا نامعلوم کرکٹر پر ہراسانی کا الزام، قانونی کارروائی کا اعلان مفتی عبدالقوی کا خود کو ’ٹھرکی‘ قرار دینے کا بیان وائرل یوٹیوب نے کم معیار کے مواد پر مونیٹائزیشن سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا شدید شمسی طوفان ٹیکنالوجی اور مواصلاتی نظام کے لیے بڑا خطرہ قرار
پاکستان خبر

پی ٹی اے کی سائبر نگرانی میں 202 ڈیجیٹل اثاثوں تک رسائی محدود، قومی ڈیجیٹل سکیورٹی مضبوط

پی ٹی اے کی سائبر نگرانی میں 202 ڈیجیٹل اثاثوں تک رسائی محدود، قومی ڈیجیٹل سکیورٹی مضبوط

اسلام آباد( ویب ڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ اپریل تا مئی 2025 کے دوران قومی ڈیجیٹل سکیورٹی کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے اور مجموعی طور پر 202 ڈیجیٹل اثاثوں تک رسائی محدود کی گئی۔جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں چوبیس گھنٹے فعال سائبر نگرانی کا نظام قائم رکھا گیا تاکہ آن لائن خطرات، غلط معلومات اور پروپیگنڈا سرگرمیوں کی بروقت روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔اتھارٹی کے مطابق مختلف او ٹی ٹی پلیٹ فارمز سے بعض غیر ملکی مواد بھی ہٹایا گیا، جبکہ سرحد پار سے پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات کے خلاف متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کی گئیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد قومی ڈیجیٹل ماحول کو محفوظ بنانا اور ملک کے خلاف چلائی جانے والی منظم پروپیگنڈا مہمات کا مؤثر تدارک کرنا تھا۔پی ٹی اے کے مطابق ان کارروائیوں کے ذریعے ڈیجیٹل سکیورٹی کو مزید مضبوط کیا گیا اور سائبر اسپیس میں نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے۔