تازہ ترین
جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا حج 2027ء کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز، ابتدائی مرحلے میں پاسپورٹ لازمی نہیں گلگت بلتستان اسمبلی: 30 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی کوششیں کمزور پڑ گئی ہیں: علی امین گنڈاپور ٹرمپ کی نیٹو اتحادیوں پر تنقید، ایران معاملے پر اٹلی کو بھی ہدف یوکرین جانے والے ترک مال بردار جہاز پر روسی ڈرون حملہ، مصری شہری ہلاک اسماعیل قانی کی اسرائیل کو جنوبی لبنان سے فوری انخلا کی وارننگ ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ، معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت نیویارک میں کنسرٹ کے دوران افسوسناک حادثہ، ایک شخص جاں بحق ایران امریکا مذاکرات کی افواہیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، ڈالر معمولی سستا ڈیزل کی قیمت میں کمی، ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فیصد تک کمی کا اعلان ورلڈ کپ 2026 میں اون گولز کی غیر معمولی زیادتی، ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان بھارت اے کی ٹرائی سیریز فائنل میں فتح، سری لنکا اے کو 66 رنز سے شکست ورلڈ کپ 2026: جرمن ٹیم کو امریکا میں سخت سیکیورٹی چیک کا سامنا، ویڈیو وائرل ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بنگلہ دیش نے پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے دی
پاکستان خبر

چین میں روبوٹکس انقلاب، مصنوعی ذہانت اور انسان کے مستقبل پر نئے سوالات

چین میں روبوٹکس انقلاب، مصنوعی ذہانت اور انسان کے مستقبل پر نئے سوالات

اسلام آباد( ویب ڈیسک) اسلام آباد میں ماہرین کے مطابق دنیا اس وقت مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں مشینیں انسانی زندگی اور معیشت کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق چین کے شہر ووہان کو جدید ٹیکنالوجی کا مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں بغیر ڈرائیور گاڑیاں، جدید ٹرانسپورٹ سسٹم اور روبوٹکس انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔وہاں قائم ایک روبوٹک انوویشن سینٹر میں مختلف اقسام کے روبوٹس تیار کیے جا رہے ہیں، جو صنعتی، گھریلو اور دفاعی شعبوں میں استعمال کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق ان روبوٹس کی تیاری میں سب سے اہم مرحلہ ڈیٹا انٹیگریشن ہے، جس میں انسانی حرکات کو ریکارڈ کر کے مشینوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی موشن کیپچر سوٹ استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں سینسرز انسانی جسم کی حرکات، زاویے اور رفتار کو ریکارڈ کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا کمپیوٹر سسٹمز کے ذریعے روبوٹس میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ انسانی انداز میں کام کر سکیں اور پیچیدہ کام انجام دے سکیں۔صنعتی روبوٹس آٹو موبائل انڈسٹری سمیت مختلف شعبوں میں تیزی سے انسانی محنت کی جگہ لے رہے ہیں، جبکہ گھریلو اور تجارتی روبوٹس روزمرہ کاموں میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔دفاعی مقاصد کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس نگرانی اور خطرات کی نشاندہی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، جو بعض صورتوں میں خودکار ردعمل کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ایک طرف سہولت اور ترقی کا باعث ہے تو دوسری طرف اس نے اس سوال کو بھی جنم دیا ہے کہ مستقبل میں انسانی لیبر فورس اور کردار کی کیا حیثیت باقی رہے گی۔رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک خصوصاً پاکستان کے لیے یہ تبدیلی ایک چیلنج اور موقع دونوں کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانی مہارتوں کو بھی نئے دور کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔