تازہ ترین
خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس واپسی کا اعلان مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید بلاجواز ہے، عطاء الرحمان زیارت شہداء معاملہ: بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ طے خیبر پختونخوا میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر تباہ امریکا نے طلبا کے ویزوں میں توسیع کے قواعد سخت کر دیے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل 120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں گزشتہ مالی سال پاکستان نے 16.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض حاصل کیے پیٹرول پمپ مالکان نے حکومتی پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد کر دی روہت شرما کی ریٹائرمنٹ کی افواہیں، بی سی سی آئی برہم ورلڈ کپ: تیسری پوزیشن کے لیے فرانس اور انگلینڈ آمنے سامنے آسکر یافتہ آئرش اداکارہ برینڈا فریکر 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں انیل کپور نے مجھے اداکاری پر آمادہ کیا: دیا مرزا واٹس ایپ ہیکنگ روکنے کیلئے ایکشن پلان تیار واٹس ایپ ہیکنگ سے نمٹنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم ہوگی
پاکستان خبر

چین میں روبوٹکس انقلاب، مصنوعی ذہانت اور انسان کے مستقبل پر نئے سوالات

چین میں روبوٹکس انقلاب، مصنوعی ذہانت اور انسان کے مستقبل پر نئے سوالات

اسلام آباد( ویب ڈیسک) اسلام آباد میں ماہرین کے مطابق دنیا اس وقت مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں مشینیں انسانی زندگی اور معیشت کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق چین کے شہر ووہان کو جدید ٹیکنالوجی کا مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں بغیر ڈرائیور گاڑیاں، جدید ٹرانسپورٹ سسٹم اور روبوٹکس انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔وہاں قائم ایک روبوٹک انوویشن سینٹر میں مختلف اقسام کے روبوٹس تیار کیے جا رہے ہیں، جو صنعتی، گھریلو اور دفاعی شعبوں میں استعمال کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق ان روبوٹس کی تیاری میں سب سے اہم مرحلہ ڈیٹا انٹیگریشن ہے، جس میں انسانی حرکات کو ریکارڈ کر کے مشینوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی موشن کیپچر سوٹ استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں سینسرز انسانی جسم کی حرکات، زاویے اور رفتار کو ریکارڈ کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا کمپیوٹر سسٹمز کے ذریعے روبوٹس میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ انسانی انداز میں کام کر سکیں اور پیچیدہ کام انجام دے سکیں۔صنعتی روبوٹس آٹو موبائل انڈسٹری سمیت مختلف شعبوں میں تیزی سے انسانی محنت کی جگہ لے رہے ہیں، جبکہ گھریلو اور تجارتی روبوٹس روزمرہ کاموں میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔دفاعی مقاصد کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس نگرانی اور خطرات کی نشاندہی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، جو بعض صورتوں میں خودکار ردعمل کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ایک طرف سہولت اور ترقی کا باعث ہے تو دوسری طرف اس نے اس سوال کو بھی جنم دیا ہے کہ مستقبل میں انسانی لیبر فورس اور کردار کی کیا حیثیت باقی رہے گی۔رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک خصوصاً پاکستان کے لیے یہ تبدیلی ایک چیلنج اور موقع دونوں کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانی مہارتوں کو بھی نئے دور کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔