تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

برطانیہ میں پناہ گزینوں کی عمر جانچنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا فیصلہ

برطانیہ میں پناہ گزینوں کی عمر جانچنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا فیصلہ

لندن (ویب ڈیسک)برطانیہ نے پناہ کے متلاشی افراد کی عمر کے تعین کے لیے جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق آئندہ سال سے ایک جدید مصنوعی ذہانت کا نظام آزمائشی بنیادوں پر استعمال کیا جائے گا، جو سرحد پر لی جانے والی تصاویر کا تجزیہ کرکے کسی بھی شخص کی عمر کا اندازہ لگائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ان بالغ تارکین وطن کی نشاندہی کرنا ہے جو خود کو کم عمر ظاہر کرکے پناہ کے نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔برطانیہ میں بغیر سرپرست آنے والے کم عمر پناہ گزین بچوں کو مقامی کونسلوں کی جانب سے خصوصی رہائش اور دیکھ بھال فراہم کی جاتی ہے، جبکہ انہیں قانونی تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے جو ان کی پناہ کی درخواست کو آسان بناتا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 تک ایک سال کے دوران ایک لاکھ گیارہ ہزار سے زائد افراد نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست دی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں چودہ فیصد زیادہ ہے۔وزارت داخلہ کے مطابق مارچ 2026 تک ایک سال کے دوران خود کو کم عمر ظاہر کرنے والے چھ ہزار چار سو سے زائد تارکین وطن کی عمر کا تعین کیا گیا، جن میں سے تینتالیس فیصد بالغ ثابت ہوئے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ غیر آزمودہ ٹیکنالوجی پر انحصار کم عمر پناہ گزین بچوں کے حقوق کو متاثر کر سکتا ہے اور اس کے نتائج غلط بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔