تازہ ترین
خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس واپسی کا اعلان مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید بلاجواز ہے، عطاء الرحمان زیارت شہداء معاملہ: بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ طے خیبر پختونخوا میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر تباہ امریکا نے طلبا کے ویزوں میں توسیع کے قواعد سخت کر دیے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل 120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں گزشتہ مالی سال پاکستان نے 16.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض حاصل کیے پیٹرول پمپ مالکان نے حکومتی پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد کر دی روہت شرما کی ریٹائرمنٹ کی افواہیں، بی سی سی آئی برہم ورلڈ کپ: تیسری پوزیشن کے لیے فرانس اور انگلینڈ آمنے سامنے آسکر یافتہ آئرش اداکارہ برینڈا فریکر 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں انیل کپور نے مجھے اداکاری پر آمادہ کیا: دیا مرزا واٹس ایپ ہیکنگ روکنے کیلئے ایکشن پلان تیار واٹس ایپ ہیکنگ سے نمٹنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم ہوگی
پاکستان خبر

امریکی طلبہ نے حیران کن کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑی تیار کر لی

امریکی طلبہ نے حیران کن کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑی تیار کر لی

یوٹاہ ( ویب ڈیسک) بریگھم ینگ یونیورسٹی کے طلبہ نے ایک منفرد اور انتہائی کم ایندھن استعمال کرنے والی تجرباتی گاڑی تیار کر کے توجہ حاصل کر لی ہے۔طلبہ کی تیار کردہ یہ گاڑی، جسے ’’سپر مائلیج‘‘ کا نام دیا گیا ہے، صرف ایک گیلن (تقریباً 3.8 لیٹر) ایندھن پر 2 ہزار 145 میل تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا ہلکا وزن، منفرد ساخت اور ہوا کے دباؤ کو کم کرنے والا ڈیزائن اسے غیر معمولی طور پر مؤثر بناتا ہے۔کاربن فائبر سے تیار کی گئی اس گاڑی کا وزن صرف 49 کلوگرام ہے، جبکہ اس میں نصب ایندھن کا ٹینک محض 30 ملی لیٹر گنجائش رکھتا ہے، جو ایک عام تجربہ گاہی نلکی سے کچھ ہی بڑا ہے۔ محدود گنجائش کے باعث تقریباً 20 میل سفر کے بعد اسے دوبارہ ایندھن کی ضرورت پڑتی ہے۔یہ گاڑی سالانہ کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑیوں کے عالمی مقابلے کے لیے تیار کی گئی ہے، جس میں مقصد کم سے کم ایندھن استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔زیادہ کارکردگی حاصل کرنے کے لیے اس گاڑی سے تقریباً تمام اضافی سہولیات ہٹا دی گئی ہیں۔ حتیٰ کہ ڈرائیور کے قد اور وزن کے لیے بھی مخصوص حد مقرر کی گئی ہے تاکہ وزن کم سے کم رکھا جا سکے۔منصوبے پر کام کرنے والے طلبہ کے مطابق نظریاتی طور پر اس گاڑی سے یوٹاہ سے نیویارک تک کا سفر ایک گیلن ایندھن میں ممکن ہے، تاہم کم رفتار اور محدود ایندھن گنجائش کے باعث عملی طور پر یہ سفر خاصا مشکل ہوگا۔ گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 37 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی تجارتی گاڑی نہیں بلکہ ایک تحقیقی اور تجرباتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد ایندھن کے مؤثر استعمال اور توانائی بچانے والی نئی ٹیکنالوجیز کے امکانات کو اجاگر کرنا ہے۔