تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

امریکی طلبہ نے حیران کن کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑی تیار کر لی

امریکی طلبہ نے حیران کن کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑی تیار کر لی

یوٹاہ ( ویب ڈیسک) بریگھم ینگ یونیورسٹی کے طلبہ نے ایک منفرد اور انتہائی کم ایندھن استعمال کرنے والی تجرباتی گاڑی تیار کر کے توجہ حاصل کر لی ہے۔طلبہ کی تیار کردہ یہ گاڑی، جسے ’’سپر مائلیج‘‘ کا نام دیا گیا ہے، صرف ایک گیلن (تقریباً 3.8 لیٹر) ایندھن پر 2 ہزار 145 میل تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا ہلکا وزن، منفرد ساخت اور ہوا کے دباؤ کو کم کرنے والا ڈیزائن اسے غیر معمولی طور پر مؤثر بناتا ہے۔کاربن فائبر سے تیار کی گئی اس گاڑی کا وزن صرف 49 کلوگرام ہے، جبکہ اس میں نصب ایندھن کا ٹینک محض 30 ملی لیٹر گنجائش رکھتا ہے، جو ایک عام تجربہ گاہی نلکی سے کچھ ہی بڑا ہے۔ محدود گنجائش کے باعث تقریباً 20 میل سفر کے بعد اسے دوبارہ ایندھن کی ضرورت پڑتی ہے۔یہ گاڑی سالانہ کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑیوں کے عالمی مقابلے کے لیے تیار کی گئی ہے، جس میں مقصد کم سے کم ایندھن استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔زیادہ کارکردگی حاصل کرنے کے لیے اس گاڑی سے تقریباً تمام اضافی سہولیات ہٹا دی گئی ہیں۔ حتیٰ کہ ڈرائیور کے قد اور وزن کے لیے بھی مخصوص حد مقرر کی گئی ہے تاکہ وزن کم سے کم رکھا جا سکے۔منصوبے پر کام کرنے والے طلبہ کے مطابق نظریاتی طور پر اس گاڑی سے یوٹاہ سے نیویارک تک کا سفر ایک گیلن ایندھن میں ممکن ہے، تاہم کم رفتار اور محدود ایندھن گنجائش کے باعث عملی طور پر یہ سفر خاصا مشکل ہوگا۔ گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 37 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی تجارتی گاڑی نہیں بلکہ ایک تحقیقی اور تجرباتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد ایندھن کے مؤثر استعمال اور توانائی بچانے والی نئی ٹیکنالوجیز کے امکانات کو اجاگر کرنا ہے۔