تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

امریکی طلبہ نے حیران کن کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑی تیار کر لی

امریکی طلبہ نے حیران کن کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑی تیار کر لی

یوٹاہ ( ویب ڈیسک) بریگھم ینگ یونیورسٹی کے طلبہ نے ایک منفرد اور انتہائی کم ایندھن استعمال کرنے والی تجرباتی گاڑی تیار کر کے توجہ حاصل کر لی ہے۔طلبہ کی تیار کردہ یہ گاڑی، جسے ’’سپر مائلیج‘‘ کا نام دیا گیا ہے، صرف ایک گیلن (تقریباً 3.8 لیٹر) ایندھن پر 2 ہزار 145 میل تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا ہلکا وزن، منفرد ساخت اور ہوا کے دباؤ کو کم کرنے والا ڈیزائن اسے غیر معمولی طور پر مؤثر بناتا ہے۔کاربن فائبر سے تیار کی گئی اس گاڑی کا وزن صرف 49 کلوگرام ہے، جبکہ اس میں نصب ایندھن کا ٹینک محض 30 ملی لیٹر گنجائش رکھتا ہے، جو ایک عام تجربہ گاہی نلکی سے کچھ ہی بڑا ہے۔ محدود گنجائش کے باعث تقریباً 20 میل سفر کے بعد اسے دوبارہ ایندھن کی ضرورت پڑتی ہے۔یہ گاڑی سالانہ کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑیوں کے عالمی مقابلے کے لیے تیار کی گئی ہے، جس میں مقصد کم سے کم ایندھن استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔زیادہ کارکردگی حاصل کرنے کے لیے اس گاڑی سے تقریباً تمام اضافی سہولیات ہٹا دی گئی ہیں۔ حتیٰ کہ ڈرائیور کے قد اور وزن کے لیے بھی مخصوص حد مقرر کی گئی ہے تاکہ وزن کم سے کم رکھا جا سکے۔منصوبے پر کام کرنے والے طلبہ کے مطابق نظریاتی طور پر اس گاڑی سے یوٹاہ سے نیویارک تک کا سفر ایک گیلن ایندھن میں ممکن ہے، تاہم کم رفتار اور محدود ایندھن گنجائش کے باعث عملی طور پر یہ سفر خاصا مشکل ہوگا۔ گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 37 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی تجارتی گاڑی نہیں بلکہ ایک تحقیقی اور تجرباتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد ایندھن کے مؤثر استعمال اور توانائی بچانے والی نئی ٹیکنالوجیز کے امکانات کو اجاگر کرنا ہے۔