تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

امریکی طلبہ نے حیران کن کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑی تیار کر لی

امریکی طلبہ نے حیران کن کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑی تیار کر لی

یوٹاہ ( ویب ڈیسک) بریگھم ینگ یونیورسٹی کے طلبہ نے ایک منفرد اور انتہائی کم ایندھن استعمال کرنے والی تجرباتی گاڑی تیار کر کے توجہ حاصل کر لی ہے۔طلبہ کی تیار کردہ یہ گاڑی، جسے ’’سپر مائلیج‘‘ کا نام دیا گیا ہے، صرف ایک گیلن (تقریباً 3.8 لیٹر) ایندھن پر 2 ہزار 145 میل تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا ہلکا وزن، منفرد ساخت اور ہوا کے دباؤ کو کم کرنے والا ڈیزائن اسے غیر معمولی طور پر مؤثر بناتا ہے۔کاربن فائبر سے تیار کی گئی اس گاڑی کا وزن صرف 49 کلوگرام ہے، جبکہ اس میں نصب ایندھن کا ٹینک محض 30 ملی لیٹر گنجائش رکھتا ہے، جو ایک عام تجربہ گاہی نلکی سے کچھ ہی بڑا ہے۔ محدود گنجائش کے باعث تقریباً 20 میل سفر کے بعد اسے دوبارہ ایندھن کی ضرورت پڑتی ہے۔یہ گاڑی سالانہ کم ایندھن خرچ کرنے والی گاڑیوں کے عالمی مقابلے کے لیے تیار کی گئی ہے، جس میں مقصد کم سے کم ایندھن استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔زیادہ کارکردگی حاصل کرنے کے لیے اس گاڑی سے تقریباً تمام اضافی سہولیات ہٹا دی گئی ہیں۔ حتیٰ کہ ڈرائیور کے قد اور وزن کے لیے بھی مخصوص حد مقرر کی گئی ہے تاکہ وزن کم سے کم رکھا جا سکے۔منصوبے پر کام کرنے والے طلبہ کے مطابق نظریاتی طور پر اس گاڑی سے یوٹاہ سے نیویارک تک کا سفر ایک گیلن ایندھن میں ممکن ہے، تاہم کم رفتار اور محدود ایندھن گنجائش کے باعث عملی طور پر یہ سفر خاصا مشکل ہوگا۔ گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 37 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی تجارتی گاڑی نہیں بلکہ ایک تحقیقی اور تجرباتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد ایندھن کے مؤثر استعمال اور توانائی بچانے والی نئی ٹیکنالوجیز کے امکانات کو اجاگر کرنا ہے۔