کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کے باعث آئندہ ایک دہائی میں انسانیت کے خاتمے کا 10 فیصد امکان ہے، یہ انتباہ اے آئی کمپنی انتھروپک کے ایک سیفٹی محقق نے دیا ہے۔انتھروپک کے محقق جیکب کوسن نے کمپنی چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر کہا کہ اے آئی کمپنیاں خود کو بہتر بنانے والے سپر انٹیلی جنس نظام تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں اور اس عمل میں انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔خود کو بہتر بنانے والے نظام سے مراد ایسے اے آئی نظام ہیں جو انسانی مداخلت کے بغیر اپنی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرسکیں۔ اگرچہ اس نوعیت کے نظام فی الحال موجود نہیں، تاہم مختلف اے آئی کمپنیاں ان کی تیاری پر کام کر رہی ہیں۔جیکب کوسن نے خبردار کیا کہ اے آئی کی طاقت کو کم تر نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ ایسے طاقتور نظام میں تبدیل ہوسکتی ہے جو بڑے پیمانے پر نظاموں کو متاثر، شعبوں کو تیزی سے تبدیل اور اختیار و وسائل اپنے قبضے میں لے سکیں۔انہوں نے کہا کہ اے آئی نظام اس یقین کے ساتھ تیار کیے جا رہے ہیں کہ رواں دہائی کے اختتام تک ان میں انسانوں کو ہلاک کرنے کی صلاحیت پیدا ہوسکتی ہے۔انتھروپک کی سائنسی ٹیم کے سربراہ ایون ہیوبینگر نے جیکب کوسن کے خدشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی سے انسانیت کے خاتمے کا امکان موجود ہے۔ ان کے ذاتی اندازے کے مطابق آئندہ ایک دہائی میں ایسا ہونے کا 10 فیصد امکان ہے۔ایون ہیوبینگر نے کہا کہ اگرچہ انتھروپک سپر انٹیلی جنس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، تاہم کمپنی کے پاس اس ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ اے آئی ماڈلز سے خطرہ بہت کم ہے، اصل تشویش سپر انٹیلی جنس نظام کے وجود میں آنے کی ہے، جن کی جانب پیش رفت توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے ہورہی ہے۔انتھروپک کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔