نیویارک( ویب ڈیسک) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے وجود کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے اس کے استعمال اور ترقی کے حوالے سے مضبوط حفاظتی ضمانتیں وضع کرنا ضروری ہے۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں، اس سے پہلے کہ صورتحال قابو سے باہر ہوجائے۔جنیوا میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وولکر ترک نے کہا کہ دنیا میں صرف چند افراد کے پاس مصنوعی ذہانت کے حوالے سے تقریباً لامحدود طاقت موجود ہے۔ ان کے مطابق اے آئی سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کو اس ٹیکنالوجی کے لیے متفقہ اور واضح حدود مقرر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جدید مصنوعی ذہانت کے حوالے سے جامع اور ناقابل سمجھوتہ حفاظتی ضمانتیں یقینی بنانا ضروری ہے۔ وہ اے آئی تیار کرنے والی کمپنیوں پر بھی زور دیں گے کہ وہ اس ٹیکنالوجی سے وابستہ ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔وولکر ترک کا کہنا تھا کہ کم از کم ان ممالک کے ساتھ مل کر متفقہ اصول اور واضح حدود طے کی جانی چاہئیں جہاں مصنوعی ذہانت تیار کی جارہی ہے اور وہ ممالک بھی شامل ہوں جو اس کی سپلائی چین کا حصہ ہیں، تاکہ ایسے اصول وضع کیے جاسکیں جن کی کسی صورت خلاف ورزی نہ ہو۔