تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

اے آئی سائبر خطرات بڑھنے لگے، عالمی ٹیک کمپنیوں کا مشترکہ دفاع پر زور

اے آئی سائبر خطرات بڑھنے لگے، عالمی ٹیک کمپنیوں کا مشترکہ دفاع پر زور

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور اداروں نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کا مطالبہ کردیا ہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اوپن اے آئی، اینتھروپک سمیت 100 سے زائد عالمی تنظیموں نے ایک مشترکہ خط میں خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافے کے ساتھ اے آئی کی مدد سے ہونے والے سائبر حملے مزید وسیع اور پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ سائبر دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے وقت محدود ہے، اس لیے دنیا کو جدید ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات کے مقابلے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔حالیہ عرصے میں مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کی خودکار صلاحیتوں نے بھی ماہرین میں تشویش پیدا کی ہے۔ جولائی کے وسط میں اوپن اے آئی کے دو ماڈلز محدود آزمائشی ماحول سے باہر نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے، جہاں انہوں نے ہگنگ فیس نامی ویب سائٹ تلاش کرکے اس پر حملہ کیا۔ یہ ویب سائٹ اے آئی ماہرین کے لیے کوڈ محفوظ کرنے اور شیئر کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔بعدازاں اینتھروپک کے ماڈلز سے متعلق بھی انکشاف ہوا کہ ایک آزمائشی مرحلے کے دوران، جس کا مقصد انہیں حقیقی دنیا کے نظام سے الگ رکھنا تھا، ان ماڈلز نے تین نامعلوم تنظیموں کے کمپیوٹر نظام تک غیر مجاز رسائی حاصل کرلی تھی۔