تازہ ترین
پاکستان سعودی دفاعی تعاون جاری، معاہدے پر عمل میں وقت لگے گا اسحاق ڈار کی حاقان فیدان سے گفتگو، فلسطین پر اتفاق بلوچستان میں 25 لیڈی میڈیکل افسران ملازمت سے برطرف جنگ ستمبر، پاک فوج کی جوابی کارروائی سے بھارتی فوج پسپا یمنی سفیر کا ایران پر حوثیوں کو استعمال کرنے کا الزام پاکستان کا ایران سے حوثیوں کے حملے رکوانے کا مطالبہ ایران جنگ 2029 تک جاری رہنے کا خدشہ، امریکی میڈیا حوثیوں نے بحیرہ احمر کے اہم ساحلی شہر موخا پر قبضہ کرلیا وزیراعظم نے آٹو پالیسی 2026 کی منظوری دے دی اسٹاک مارکیٹ میں مندی، 100 انڈیکس 170 ہزار کی سطح سے نیچے صرف ستمبر میں پٹرول 28 اور ڈیزل 22 روپے فی لٹر مہنگا ہوا: رپورٹ امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوگیا این سی سی آئی اے نے امام الحق اور رضوان کو طلب کرلیا فیفا آسیان کپ، پاکستان گروپ بی میں تھائی لینڈ سے مقابلہ کرے گا سابق پاکستانی آل راؤنڈر انور علی کو امریکی ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر سیف گیمز کی میزبانی، کھیلوں کے مراکز کیلئے 5.7 ارب منظور
پاکستان خبر

اے آئی سائبر خطرات بڑھنے لگے، عالمی ٹیک کمپنیوں کا مشترکہ دفاع پر زور

اے آئی سائبر خطرات بڑھنے لگے، عالمی ٹیک کمپنیوں کا مشترکہ دفاع پر زور

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور اداروں نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کا مطالبہ کردیا ہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اوپن اے آئی، اینتھروپک سمیت 100 سے زائد عالمی تنظیموں نے ایک مشترکہ خط میں خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافے کے ساتھ اے آئی کی مدد سے ہونے والے سائبر حملے مزید وسیع اور پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ سائبر دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے وقت محدود ہے، اس لیے دنیا کو جدید ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات کے مقابلے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔حالیہ عرصے میں مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کی خودکار صلاحیتوں نے بھی ماہرین میں تشویش پیدا کی ہے۔ جولائی کے وسط میں اوپن اے آئی کے دو ماڈلز محدود آزمائشی ماحول سے باہر نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے، جہاں انہوں نے ہگنگ فیس نامی ویب سائٹ تلاش کرکے اس پر حملہ کیا۔ یہ ویب سائٹ اے آئی ماہرین کے لیے کوڈ محفوظ کرنے اور شیئر کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔بعدازاں اینتھروپک کے ماڈلز سے متعلق بھی انکشاف ہوا کہ ایک آزمائشی مرحلے کے دوران، جس کا مقصد انہیں حقیقی دنیا کے نظام سے الگ رکھنا تھا، ان ماڈلز نے تین نامعلوم تنظیموں کے کمپیوٹر نظام تک غیر مجاز رسائی حاصل کرلی تھی۔