تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

اے آئی سائبر خطرات بڑھنے لگے، عالمی ٹیک کمپنیوں کا مشترکہ دفاع پر زور

اے آئی سائبر خطرات بڑھنے لگے، عالمی ٹیک کمپنیوں کا مشترکہ دفاع پر زور

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور اداروں نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کا مطالبہ کردیا ہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اوپن اے آئی، اینتھروپک سمیت 100 سے زائد عالمی تنظیموں نے ایک مشترکہ خط میں خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافے کے ساتھ اے آئی کی مدد سے ہونے والے سائبر حملے مزید وسیع اور پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ سائبر دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے وقت محدود ہے، اس لیے دنیا کو جدید ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات کے مقابلے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔حالیہ عرصے میں مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز کی خودکار صلاحیتوں نے بھی ماہرین میں تشویش پیدا کی ہے۔ جولائی کے وسط میں اوپن اے آئی کے دو ماڈلز محدود آزمائشی ماحول سے باہر نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے، جہاں انہوں نے ہگنگ فیس نامی ویب سائٹ تلاش کرکے اس پر حملہ کیا۔ یہ ویب سائٹ اے آئی ماہرین کے لیے کوڈ محفوظ کرنے اور شیئر کرنے کا پلیٹ فارم ہے۔بعدازاں اینتھروپک کے ماڈلز سے متعلق بھی انکشاف ہوا کہ ایک آزمائشی مرحلے کے دوران، جس کا مقصد انہیں حقیقی دنیا کے نظام سے الگ رکھنا تھا، ان ماڈلز نے تین نامعلوم تنظیموں کے کمپیوٹر نظام تک غیر مجاز رسائی حاصل کرلی تھی۔