پیرس (ویب ڈیسک)ایمازون کے بانی جیف بیزوس نے پرامید انداز میں پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی جگہ لینے کے بجائے مزدوروں کی کمی پیدا کرے گی۔ایک حالیہ گفتگو میں انہوں نے مستقبل کی ایک مثبت تصویر پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے رکاوٹ نہیں بلکہ مددگار ثابت ہوگی۔ انہوں نے اپنے خلائی منصوبے اور مصنوعی ذہانت سے متعلق نئی اسٹارٹ اپ کا بھی ذکر کیا جو صنعتی پیداوار کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔جیف بیزوس کے مطابق بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کو غیر ضروری بنا دے گی، تاہم وہ اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کام کی ہمیشہ ضرورت رہے گی اور مصنوعی ذہانت صرف ان رکاوٹوں کو کم کرے گی جو موجودہ وقت میں انسانی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت میں بڑھتی سرمایہ کاری کے بعد ملازمتوں میں کمی کے رجحانات بھی دیکھے جا رہے ہیں، جس پر مختلف ممالک میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔جیف بیزوس نے اپنے خلائی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں آلودہ صنعتی سرگرمیوں کو زمین سے باہر منتقل کرنے کا تصور بھی زیر غور ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر خلائی سفر سستا اور قابلِ اعتماد ہو جائے تو زمین کو ماحولیاتی طور پر بہتر بنایا جا سکتا ہے۔دوسری جانب دیگر ٹیکنالوجی رہنما بھی خلائی تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو مستقبل کی بڑی سمت قرار دے رہے ہیں، جن میں چاند اور مریخ پر انسانی بستیاں قائم کرنے جیسے منصوبے بھی شامل ہیں۔