تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

ماہرین نے شمسی نظام سے باہر ایک نیا مدھم سیارہ دریافت کر لیا

ماہرین نے شمسی نظام سے باہر ایک نیا مدھم سیارہ دریافت کر لیا

ہیوسٹن( ویب ڈیسک) ماہرینِ فلکیات نے شمسی نظام سے باہر موجود ایک نئے سیارے (ایکسوپلینیٹ) کی دریافت کا اعلان کیا ہے، جسے زمین سے براہِ راست تصویر میں دیکھے جانے والے اب تک کے سب سے مدھم سیاروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔تحقیقی ٹیم کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سیارہ کم از کم 11 سال پہلے لی گئی تصاویر میں موجود تھا، تاہم اس وقت اس کی شناخت نہیں ہو سکی تھی۔ نئی تحقیق کے نتائج سامنے آنے کے بعد اس سیارے کی موجودگی کی تصدیق ممکن ہوئی۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہوئی ہے۔تحقیق کے شریک سربراہ اور یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے تعلق رکھنے والے ماہر فلکیات بین سٹلیف نے کہا کہ یہ دریافت غیر متوقع تھی۔ ان کے مطابق تحقیقاتی ٹیم دراصل بیٹا پکٹورس ستارے کے گرد گردش کرنے والے ایک معلوم سیارے کا مشاہدہ کر رہی تھی تاکہ وقت کے ساتھ اس میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے، لیکن تصاویر کے تفصیلی تجزیے کے دوران ایک نیا اور نامعلوم سیارہ سامنے آ گیا۔مطالعے کے شریک سربراہ مارکس بونسے نے بتایا کہ ابتدائی مشاہدے کے بعد یورپی جنوبی رصدگاہ کے محفوظ شدہ ریکارڈ کا دوبارہ جائزہ لیا گیا، جہاں کم از کم 11 سال پرانی تصاویر میں بھی اس سیارے کے شواہد مل گئے۔ ان کے مطابق بیٹا پکٹورس ڈی، بیٹا پکٹورس بی کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا زیادہ مدھم ہے۔تحقیق کی شریک مصنفہ اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی ماہر فلکیات جین برکبی نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بیٹا پکٹورس ڈی گزشتہ ایک دہائی سے ماہرینِ فلکیات کی نظروں سے اوجھل رہ کر "آنکھ مچولی" کھیلتا رہا ہو۔ماہرین کے مطابق یہ نیا دریافت ہونے والا سیارہ زمین سے تقریباً 63 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ مشتری اور زحل کی طرح ایک دیو ہیکل گیس سے بنا سیارہ ہے، جبکہ اس نظام میں پہلے سے موجود بیٹا پکٹورس بی اور بیٹا پکٹورس سی بھی گیس سے بنے بڑے سیارے ہیں۔ نئے سیارے کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنے ستارے کے گرد دیگر دونوں سیاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ فاصلے پر گردش کرتا ہے۔