تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

ماہرین نے شمسی نظام سے باہر ایک نیا مدھم سیارہ دریافت کر لیا

ماہرین نے شمسی نظام سے باہر ایک نیا مدھم سیارہ دریافت کر لیا

ہیوسٹن( ویب ڈیسک) ماہرینِ فلکیات نے شمسی نظام سے باہر موجود ایک نئے سیارے (ایکسوپلینیٹ) کی دریافت کا اعلان کیا ہے، جسے زمین سے براہِ راست تصویر میں دیکھے جانے والے اب تک کے سب سے مدھم سیاروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔تحقیقی ٹیم کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سیارہ کم از کم 11 سال پہلے لی گئی تصاویر میں موجود تھا، تاہم اس وقت اس کی شناخت نہیں ہو سکی تھی۔ نئی تحقیق کے نتائج سامنے آنے کے بعد اس سیارے کی موجودگی کی تصدیق ممکن ہوئی۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہوئی ہے۔تحقیق کے شریک سربراہ اور یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے تعلق رکھنے والے ماہر فلکیات بین سٹلیف نے کہا کہ یہ دریافت غیر متوقع تھی۔ ان کے مطابق تحقیقاتی ٹیم دراصل بیٹا پکٹورس ستارے کے گرد گردش کرنے والے ایک معلوم سیارے کا مشاہدہ کر رہی تھی تاکہ وقت کے ساتھ اس میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے، لیکن تصاویر کے تفصیلی تجزیے کے دوران ایک نیا اور نامعلوم سیارہ سامنے آ گیا۔مطالعے کے شریک سربراہ مارکس بونسے نے بتایا کہ ابتدائی مشاہدے کے بعد یورپی جنوبی رصدگاہ کے محفوظ شدہ ریکارڈ کا دوبارہ جائزہ لیا گیا، جہاں کم از کم 11 سال پرانی تصاویر میں بھی اس سیارے کے شواہد مل گئے۔ ان کے مطابق بیٹا پکٹورس ڈی، بیٹا پکٹورس بی کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا زیادہ مدھم ہے۔تحقیق کی شریک مصنفہ اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی ماہر فلکیات جین برکبی نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بیٹا پکٹورس ڈی گزشتہ ایک دہائی سے ماہرینِ فلکیات کی نظروں سے اوجھل رہ کر "آنکھ مچولی" کھیلتا رہا ہو۔ماہرین کے مطابق یہ نیا دریافت ہونے والا سیارہ زمین سے تقریباً 63 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ مشتری اور زحل کی طرح ایک دیو ہیکل گیس سے بنا سیارہ ہے، جبکہ اس نظام میں پہلے سے موجود بیٹا پکٹورس بی اور بیٹا پکٹورس سی بھی گیس سے بنے بڑے سیارے ہیں۔ نئے سیارے کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنے ستارے کے گرد دیگر دونوں سیاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ فاصلے پر گردش کرتا ہے۔