ہیوسٹن( ویب ڈیسک) ماہرینِ فلکیات نے شمسی نظام سے باہر موجود ایک نئے سیارے (ایکسوپلینیٹ) کی دریافت کا اعلان کیا ہے، جسے زمین سے براہِ راست تصویر میں دیکھے جانے والے اب تک کے سب سے مدھم سیاروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔تحقیقی ٹیم کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سیارہ کم از کم 11 سال پہلے لی گئی تصاویر میں موجود تھا، تاہم اس وقت اس کی شناخت نہیں ہو سکی تھی۔ نئی تحقیق کے نتائج سامنے آنے کے بعد اس سیارے کی موجودگی کی تصدیق ممکن ہوئی۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہوئی ہے۔تحقیق کے شریک سربراہ اور یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے تعلق رکھنے والے ماہر فلکیات بین سٹلیف نے کہا کہ یہ دریافت غیر متوقع تھی۔ ان کے مطابق تحقیقاتی ٹیم دراصل بیٹا پکٹورس ستارے کے گرد گردش کرنے والے ایک معلوم سیارے کا مشاہدہ کر رہی تھی تاکہ وقت کے ساتھ اس میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے، لیکن تصاویر کے تفصیلی تجزیے کے دوران ایک نیا اور نامعلوم سیارہ سامنے آ گیا۔مطالعے کے شریک سربراہ مارکس بونسے نے بتایا کہ ابتدائی مشاہدے کے بعد یورپی جنوبی رصدگاہ کے محفوظ شدہ ریکارڈ کا دوبارہ جائزہ لیا گیا، جہاں کم از کم 11 سال پرانی تصاویر میں بھی اس سیارے کے شواہد مل گئے۔ ان کے مطابق بیٹا پکٹورس ڈی، بیٹا پکٹورس بی کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا زیادہ مدھم ہے۔تحقیق کی شریک مصنفہ اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی ماہر فلکیات جین برکبی نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بیٹا پکٹورس ڈی گزشتہ ایک دہائی سے ماہرینِ فلکیات کی نظروں سے اوجھل رہ کر "آنکھ مچولی" کھیلتا رہا ہو۔ماہرین کے مطابق یہ نیا دریافت ہونے والا سیارہ زمین سے تقریباً 63 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ مشتری اور زحل کی طرح ایک دیو ہیکل گیس سے بنا سیارہ ہے، جبکہ اس نظام میں پہلے سے موجود بیٹا پکٹورس بی اور بیٹا پکٹورس سی بھی گیس سے بنے بڑے سیارے ہیں۔ نئے سیارے کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنے ستارے کے گرد دیگر دونوں سیاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ فاصلے پر گردش کرتا ہے۔