تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

آسٹریا اور الجزائر کا ڈرامائی مقابلہ، ایران باہر، سوالات اٹھنے لگے

آسٹریا اور الجزائر کا ڈرامائی مقابلہ، ایران باہر، سوالات اٹھنے لگے

تہران( سپورٹس ڈیسک)فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ جے کا آخری میچ، جو آسٹریا اور الجزائر کے درمیان کھیلا گیا، 3-3 گول سے برابر رہا۔ اس سنسنی خیز مقابلے کے بعد صورتحال نے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔اس ڈرا کے نتیجے میں دونوں ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ گئیں جبکہ ایران ایونٹ سے باہر ہو گیا، جس پر ایرانی شائقین نے شدید اعتراض کرتے ہوئے فیفا سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔میچ کے بعد الجزائر کے کپتان Riyad Mahrez کے بیانات نے اس مقابلے کو مزید مشکوک بنا دیا۔محرز نے کہا کہ صورتحال کچھ عجیب تھی، ہم تیزی سے کھیلنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ آسٹریا کے کھلاڑی زیادہ تر دفاعی انداز میں پیچھے رہ کر کھیل رہے تھے۔ پھر آخری لمحات میں گیند میرے پاس آئی تو میرے پاس گول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ میں کھیل کے اصولوں اور فٹبال کا احترام کرتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ اچھی بات یہ ہوئی کہ آسٹریا نے بھی گول کیا اور وہ بھی اگلے مرحلے میں پہنچ گیا، یوں دونوں ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ گئیں، اور آج سب سے اہم بات یہی تھی۔انجری ٹائم میں کیے گئے گول کے بارے میں بات کرتے ہوئے محرز نے کہا کہ یہ صورتحال شرمندگی والی ضرور تھی، لیکن جب گیند میرے پاس آئی تو میں نے موقع ضائع نہیں کیا۔ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر میچ فکسنگ سے متعلق قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں، تاہم اب تک FIFA یا کسی متعلقہ ادارے کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل یا تحقیقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔یہ میچ FIFA World Cup 2026 کے اہم ترین اور زیر بحث مقابلوں میں شامل ہو گیا ہے۔