تازہ ترین
ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان کا مذاکرات کا مطا لبہ الیکشن قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ، الیکشن کمیشن نے لیگل ریفارمز کمیٹی فعال کر دی وفاقی آئینی عدالت کے اہم فیصلے، حارث اسٹیل ملز ریفرنس پر نیب کو نوٹس صدر زرداری نے تین اہم سمریوں کی منظوری دے دی امریکا کا ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ، بندر عباس سمیت اہم عسکری تنصیبات نشانے پر ایران کا کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ میانمار کے قریب دو کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی ہلاکت کا خدشہ برطانیہ میں 14 سالہ لڑکے پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج پاکستان، ترکیہ بزنس کانفرنس میں سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان کی سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کے رعایتی آئل فنانسنگ پیکیج کی درخواست سیاسی بینر لہرانے پر ارجنٹائن کو فیفا کارروائی کا سامنا متو قع واشنگٹن فریڈم نے ٹی ٹوئنٹی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف حاصل کر لیا ماڈل ہما سلیم کا نامعلوم کرکٹر پر ہراسانی کا الزام، قانونی کارروائی کا اعلان مفتی عبدالقوی کا خود کو ’ٹھرکی‘ قرار دینے کا بیان وائرل یوٹیوب نے کم معیار کے مواد پر مونیٹائزیشن سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا شدید شمسی طوفان ٹیکنالوجی اور مواصلاتی نظام کے لیے بڑا خطرہ قرار
پاکستان خبر

چین کی نئی ٹیکنالوجی: سمندری کھارا پانی سورج کی روشنی سے پینے کے قابل بنانا ممکن

چین کی نئی ٹیکنالوجی: سمندری کھارا پانی سورج کی روشنی سے پینے کے قابل بنانا ممکن

بیجنگ( ویب ڈیسک) چین کے سائنسدانوں نے ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے ذریعے سمندر کے کھارے پانی کو پینے کے قابل تازہ پانی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، اور یہ عمل روایتی طریقوں کے مقابلے میں انتہائی کم لاگت میں مکمل کیا جا سکے گا۔ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے روایتی طریقوں میں زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے، جس کے باعث یہ عمل عام طور پر مہنگا اور ماحولیاتی طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر جب اس میں فوسل فیولز کا استعمال کیا جائے۔تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک پروٹوٹائپ آلہ تیار کیا ہے جو طویل مدت تک تقریباً بغیر برقی توانائی کے کام کر سکتا ہے اور صرف سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرتا ہے۔ یہ تحقیق چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور شینزن یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر کی ہے۔محققین کے مطابق اس نئی پیش رفت میں ایک جدید فوٹو تھرمل مواد استعمال کیا گیا ہے، جس میں نینو پارٹیکلز کو تھری ڈی ساخت میں جوڑ کر سورج کی توانائی کو زیادہ مؤثر طریقے سے جذب کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔تجربات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ مواد سورج کی تقریباً 90.2 فیصد حرارت جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے عمل میں توانائی کی ضرورت میں 45.7 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔مزید چھوٹے پیمانے پر کیے گئے تجربات میں اس نظام کو زرعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا گیا، جہاں صرف پانچ مربع میٹر کے رقبے کے لیے تیار کردہ پانی کئی ہفتوں تک استعمال میں رہا۔ اس دوران کسی بھی اضافی بجلی کی ضرورت پیش نہیں آئی اور پورا عمل صرف سورج کی روشنی پر انحصار کرتا رہا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی لاگت مستقبل میں اس حد تک کم ہو سکتی ہے کہ یہ بوتل بند پانی سے بھی سستی ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر استعمال سے اس کی افادیت اور معاشی بچت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔