تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

چین کی نئی ٹیکنالوجی: سمندری کھارا پانی سورج کی روشنی سے پینے کے قابل بنانا ممکن

چین کی نئی ٹیکنالوجی: سمندری کھارا پانی سورج کی روشنی سے پینے کے قابل بنانا ممکن

بیجنگ( ویب ڈیسک) چین کے سائنسدانوں نے ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے ذریعے سمندر کے کھارے پانی کو پینے کے قابل تازہ پانی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، اور یہ عمل روایتی طریقوں کے مقابلے میں انتہائی کم لاگت میں مکمل کیا جا سکے گا۔ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے روایتی طریقوں میں زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے، جس کے باعث یہ عمل عام طور پر مہنگا اور ماحولیاتی طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر جب اس میں فوسل فیولز کا استعمال کیا جائے۔تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک پروٹوٹائپ آلہ تیار کیا ہے جو طویل مدت تک تقریباً بغیر برقی توانائی کے کام کر سکتا ہے اور صرف سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرتا ہے۔ یہ تحقیق چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور شینزن یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر کی ہے۔محققین کے مطابق اس نئی پیش رفت میں ایک جدید فوٹو تھرمل مواد استعمال کیا گیا ہے، جس میں نینو پارٹیکلز کو تھری ڈی ساخت میں جوڑ کر سورج کی توانائی کو زیادہ مؤثر طریقے سے جذب کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔تجربات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ مواد سورج کی تقریباً 90.2 فیصد حرارت جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے عمل میں توانائی کی ضرورت میں 45.7 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔مزید چھوٹے پیمانے پر کیے گئے تجربات میں اس نظام کو زرعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا گیا، جہاں صرف پانچ مربع میٹر کے رقبے کے لیے تیار کردہ پانی کئی ہفتوں تک استعمال میں رہا۔ اس دوران کسی بھی اضافی بجلی کی ضرورت پیش نہیں آئی اور پورا عمل صرف سورج کی روشنی پر انحصار کرتا رہا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی لاگت مستقبل میں اس حد تک کم ہو سکتی ہے کہ یہ بوتل بند پانی سے بھی سستی ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر استعمال سے اس کی افادیت اور معاشی بچت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔