تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

چین کی نئی ٹیکنالوجی: سمندری کھارا پانی سورج کی روشنی سے پینے کے قابل بنانا ممکن

چین کی نئی ٹیکنالوجی: سمندری کھارا پانی سورج کی روشنی سے پینے کے قابل بنانا ممکن

بیجنگ( ویب ڈیسک) چین کے سائنسدانوں نے ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے ذریعے سمندر کے کھارے پانی کو پینے کے قابل تازہ پانی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، اور یہ عمل روایتی طریقوں کے مقابلے میں انتہائی کم لاگت میں مکمل کیا جا سکے گا۔ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے روایتی طریقوں میں زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے، جس کے باعث یہ عمل عام طور پر مہنگا اور ماحولیاتی طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر جب اس میں فوسل فیولز کا استعمال کیا جائے۔تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک پروٹوٹائپ آلہ تیار کیا ہے جو طویل مدت تک تقریباً بغیر برقی توانائی کے کام کر سکتا ہے اور صرف سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرتا ہے۔ یہ تحقیق چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور شینزن یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر کی ہے۔محققین کے مطابق اس نئی پیش رفت میں ایک جدید فوٹو تھرمل مواد استعمال کیا گیا ہے، جس میں نینو پارٹیکلز کو تھری ڈی ساخت میں جوڑ کر سورج کی توانائی کو زیادہ مؤثر طریقے سے جذب کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔تجربات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ مواد سورج کی تقریباً 90.2 فیصد حرارت جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے عمل میں توانائی کی ضرورت میں 45.7 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔مزید چھوٹے پیمانے پر کیے گئے تجربات میں اس نظام کو زرعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا گیا، جہاں صرف پانچ مربع میٹر کے رقبے کے لیے تیار کردہ پانی کئی ہفتوں تک استعمال میں رہا۔ اس دوران کسی بھی اضافی بجلی کی ضرورت پیش نہیں آئی اور پورا عمل صرف سورج کی روشنی پر انحصار کرتا رہا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی لاگت مستقبل میں اس حد تک کم ہو سکتی ہے کہ یہ بوتل بند پانی سے بھی سستی ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر استعمال سے اس کی افادیت اور معاشی بچت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔