بیجنگ( ویب ڈیسک)چین کے ایک صنعتی ریگولیٹر نے امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی اینتھروپک کے اے آئی کوڈنگ ٹول ’کلاڈ کوڈ‘ میں مبینہ سکیورٹی بیک ڈور کی موجودگی کے حوالے سے صارفین اور اداروں کو خبردار کر دیا ہے۔چین کے نیشنل ولنرایبلٹی ڈیٹا بیس (این وی ڈی بی) کے مطابق مبینہ بیک ڈور سافٹ ویئر کو صارفین کی حساس معلومات، جن میں لوکیشن اور شناخت سے متعلق ڈیٹا بھی شامل ہے، بغیر اجازت اینتھروپک کے سرورز تک منتقل کرنے کی صلاحیت دے سکتا ہے۔’کلاڈ کوڈ‘ ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی کوڈنگ ٹول ہے، جو صارف کی ہدایات کے مطابق کمپیوٹر کوڈ تیار کرنے، سافٹ ویئر کی خامیاں دور کرنے اور کوڈ کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اینتھروپک نے چین اور بعض دیگر ممالک میں اپنی مصنوعات تک براہِ راست رسائی محدود کر رکھی ہے، تاہم ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) یا تھرڈ پارٹی پراکسی سروسز کے ذریعے ان ٹولز تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔این وی ڈی بی، جو چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی سے منسلک ادارہ ہے، نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ حالیہ تحقیقات کے دوران ’کلاڈ کوڈ‘ میں ایسے سکیورٹی خطرات کی نشاندہی ہوئی ہے جو صارفین اور اداروں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اینتھروپک نے ان الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل یا تبصرہ جاری نہیں کیا۔چینی ادارے نے صارفین اور تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے سسٹمز کا جائزہ لیں اور یا تو سافٹ ویئر کو اَن انسٹال کر دیں یا اس کے تازہ ترین محفوظ ورژن پر اپڈیٹ کریں، اگر اس میں مبینہ سکیورٹی خامی دور کر دی گئی ہو۔دوسری جانب چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا نے بھی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے ملازمین پر 10 جولائی سے ’کلاڈ کوڈ‘ کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل اینتھروپک، علی بابا پر اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی نقل تیار کرنے کا الزام بھی عائد کر چکی ہے۔
چین کا اینتھروپک کے اے آئی ٹول ’کلاڈ کوڈ‘ سے متعلق سکیورٹی انتباہ
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی