بیجنگ( ویب ڈیسک)چین نے ہیومنائیڈ روبوٹس کی عملی تربیت کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا روبوٹک اسکول قائم کر دیا ہے، جہاں روبوٹس کو مختلف پیشہ ورانہ اور عملی مہارتیں سکھائی جائیں گی۔مشرقی چین کے صوبے ژیجیانگ کے شہر ہانگژو میں قائم ہانگژو روبوٹ اسکول میں روبوٹس کے لیے چار خصوصی پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں تکنیکی تعلیم، نرسنگ، فنون اور کھیل شامل ہیں۔اسکول انتظامیہ کے مطابق ان تمام کورسز کا مقصد روبوٹس کی مجموعی صلاحیتوں، فیصلہ سازی اور عملی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے تاکہ وہ حقیقی زندگی کے مختلف شعبوں میں مؤثر انداز میں خدمات انجام دے سکیں۔جاری کی گئی ویڈیوز میں روبوٹس کو اسکول کی ٹائیاں پہنے ٹیبل ٹینس کھیلتے، پیانو کی مشق کرتے اور باسکٹ بال کھیلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس نے سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کی ہے۔نوبل لفٹ گروپ کے ایگزیکٹو صدر شو سونگوئی کا کہنا ہے کہ امید ہے روبوٹک اسکول سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد یہ روبوٹس لاجسٹکس سمیت مختلف عملی ماحول میں مؤثر انداز میں کام کرنے، مسائل حل کرنے اور متنوع نوعیت کی ملازمتوں کی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل ہوں گے۔
چین نے ہیومنائیڈ روبوٹس کی تربیت کے لیے دنیا کا پہلا روبوٹک اسکول قائم کر دیا
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی