تازہ ترین
وزیر دفاعی پیداوار کی وزیراعظم سے ملاقات، مکہ معاہدے پر مبارکباد 79واں جشنِ آزادی، تجدیدِ عہدِ وفا کا شاندار ٹیزر جاری لاہور میٹرو بس سروس بند ہونے کا خطرہ ٹل گیا شمالی وزیرستان میں رات کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ترکی پارلیمنٹ کا پی کے کے جنگجوؤں کو جزوی معافی کا قانون منظور آبنائے ہرمز محفوظ بنانے کیلئے امریکی حملے، ناکہ بندی روکنا ہوگی: عراقچی ریاض ایئر کی ڈھاکہ کیلئے براہِ راست پروازیں شروع ٹرمپ کا ایران سے جنگی نقصانات کا معاوضہ لینے کا اعلان بلوچستان سیلاب متاثرین کی رہائشی امداد کا فنڈ منتقل کرنے پر ورلڈ بینک برہم پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1000 پوائنٹس گر گیا حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز میں مذاکرات ناکام، ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ ایران امریکا کشیدگی، عالمی فضائی صنعت شدید بحران کا شکار ون ڈے ورلڈکپ 2027 میں 14 ٹیمیں شریک ہوں گی کراچی کی حالت دیکھ کر بہت شرمندگی ہوتی ہے: شاہد آفریدی شان مسعود کی انگلی زخمی، پریکٹس میچ میں شرکت مشکوک ربادا وسیم اکرم کی 1992ء کی کارکردگی کے معترف
پاکستان خبر

چین کا زمین کو خطرناک سیارچوں سے بچانے کے لیے بڑا خلائی منصوبہ

چین کا زمین کو خطرناک سیارچوں سے بچانے کے لیے بڑا خلائی منصوبہ

 بیجنگ( مانیٹرنگ ڈیسک)چین نے زمین کو ممکنہ خطرناک سیارچوں سے محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم خلائی مشن کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت 2030 سے قبل ایک خلائی جہاز کو جان بوجھ کر ایک سیارچے سے ٹکرایا جائے گا تاکہ اس کے راستے میں تبدیلی لانے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا جا سکے۔چینی سائنس دانوں کے مطابق اس مشن کا مقصد صرف تجرباتی تصادم نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر سیارچے کے مدار یا ساخت میں ایسی تبدیلی پیدا کرنا ہے، جو مستقبل میں زمین کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو۔یہ منصوبہ چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کے سیاروی دفاع کے چیف سائنس دان لی منگ تاؤ کی نگرانی میں تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ اس سے متعلق تحقیقی مقالہ چینی سائنسی جریدے جرنل آف ڈیپ اسپیس ایکسپلوریشن میں جائزے کے مرحلے میں ہے۔تحقیق کے مطابق خلائی جہاز تقریباً 9 کلومیٹر فی سیکنڈ سے زیادہ رفتار سے سیارچے سے ٹکرائے گا، جو آواز کی رفتار سے تقریباً 26 گنا زیادہ ہے۔ یہ تصادم 2029 یا 2030 میں اس وقت متوقع ہے جب متعلقہ سیارچہ زمین سے تقریباً 70 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔منصوبے کے تحت ایک دوسرا خلائی جہاز بھی بھیجا جائے گا، جو تصادم سے پہلے، دورانِ تصادم اور بعد میں سیارچے کا مسلسل مشاہدہ کرے گا اور اس کے مدار، شکل، سطح اور اندرونی ساخت میں آنے والی تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ لے گا۔چینی محققین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ امریکی خلائی ادارے کے ڈارٹ مشن سے ایک قدم آگے ہے، کیونکہ اس کا مقصد صرف سیارچے پر ضرب لگانا نہیں بلکہ زمین کے حوالے سے اس کے راستے میں مؤثر تبدیلی لانے کی صلاحیت کو عملی طور پر جانچنا ہے۔