تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

چین کا زمین کو خطرناک سیارچوں سے بچانے کے لیے بڑا خلائی منصوبہ

چین کا زمین کو خطرناک سیارچوں سے بچانے کے لیے بڑا خلائی منصوبہ

 بیجنگ( مانیٹرنگ ڈیسک)چین نے زمین کو ممکنہ خطرناک سیارچوں سے محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم خلائی مشن کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت 2030 سے قبل ایک خلائی جہاز کو جان بوجھ کر ایک سیارچے سے ٹکرایا جائے گا تاکہ اس کے راستے میں تبدیلی لانے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا جا سکے۔چینی سائنس دانوں کے مطابق اس مشن کا مقصد صرف تجرباتی تصادم نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر سیارچے کے مدار یا ساخت میں ایسی تبدیلی پیدا کرنا ہے، جو مستقبل میں زمین کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو۔یہ منصوبہ چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کے سیاروی دفاع کے چیف سائنس دان لی منگ تاؤ کی نگرانی میں تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ اس سے متعلق تحقیقی مقالہ چینی سائنسی جریدے جرنل آف ڈیپ اسپیس ایکسپلوریشن میں جائزے کے مرحلے میں ہے۔تحقیق کے مطابق خلائی جہاز تقریباً 9 کلومیٹر فی سیکنڈ سے زیادہ رفتار سے سیارچے سے ٹکرائے گا، جو آواز کی رفتار سے تقریباً 26 گنا زیادہ ہے۔ یہ تصادم 2029 یا 2030 میں اس وقت متوقع ہے جب متعلقہ سیارچہ زمین سے تقریباً 70 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔منصوبے کے تحت ایک دوسرا خلائی جہاز بھی بھیجا جائے گا، جو تصادم سے پہلے، دورانِ تصادم اور بعد میں سیارچے کا مسلسل مشاہدہ کرے گا اور اس کے مدار، شکل، سطح اور اندرونی ساخت میں آنے والی تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ لے گا۔چینی محققین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ امریکی خلائی ادارے کے ڈارٹ مشن سے ایک قدم آگے ہے، کیونکہ اس کا مقصد صرف سیارچے پر ضرب لگانا نہیں بلکہ زمین کے حوالے سے اس کے راستے میں مؤثر تبدیلی لانے کی صلاحیت کو عملی طور پر جانچنا ہے۔