تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

چین کا زمین کو خطرناک سیارچوں سے بچانے کے لیے بڑا خلائی منصوبہ

چین کا زمین کو خطرناک سیارچوں سے بچانے کے لیے بڑا خلائی منصوبہ

 بیجنگ( مانیٹرنگ ڈیسک)چین نے زمین کو ممکنہ خطرناک سیارچوں سے محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم خلائی مشن کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت 2030 سے قبل ایک خلائی جہاز کو جان بوجھ کر ایک سیارچے سے ٹکرایا جائے گا تاکہ اس کے راستے میں تبدیلی لانے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا جا سکے۔چینی سائنس دانوں کے مطابق اس مشن کا مقصد صرف تجرباتی تصادم نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر سیارچے کے مدار یا ساخت میں ایسی تبدیلی پیدا کرنا ہے، جو مستقبل میں زمین کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو۔یہ منصوبہ چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کے سیاروی دفاع کے چیف سائنس دان لی منگ تاؤ کی نگرانی میں تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ اس سے متعلق تحقیقی مقالہ چینی سائنسی جریدے جرنل آف ڈیپ اسپیس ایکسپلوریشن میں جائزے کے مرحلے میں ہے۔تحقیق کے مطابق خلائی جہاز تقریباً 9 کلومیٹر فی سیکنڈ سے زیادہ رفتار سے سیارچے سے ٹکرائے گا، جو آواز کی رفتار سے تقریباً 26 گنا زیادہ ہے۔ یہ تصادم 2029 یا 2030 میں اس وقت متوقع ہے جب متعلقہ سیارچہ زمین سے تقریباً 70 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔منصوبے کے تحت ایک دوسرا خلائی جہاز بھی بھیجا جائے گا، جو تصادم سے پہلے، دورانِ تصادم اور بعد میں سیارچے کا مسلسل مشاہدہ کرے گا اور اس کے مدار، شکل، سطح اور اندرونی ساخت میں آنے والی تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ لے گا۔چینی محققین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ امریکی خلائی ادارے کے ڈارٹ مشن سے ایک قدم آگے ہے، کیونکہ اس کا مقصد صرف سیارچے پر ضرب لگانا نہیں بلکہ زمین کے حوالے سے اس کے راستے میں مؤثر تبدیلی لانے کی صلاحیت کو عملی طور پر جانچنا ہے۔