تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا قوم سازی میں اساتذہ کے کردار کو خراجِ تحسین امریکی سینیٹر کا ایران سے سفارتی معاہدے کو ترجیح دینے پر زور تبدیلی گالیوں سے نہیں، کام کرکے دکھانے سے آتی ہے: احسن اقبال اچھا استاد معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے: مریم نواز خواجہ آصف کے پی حکومت سے دہشت گردی پر 8 سوالات بلغاریائی حکمران زار سیموئیل کی باقیات 60 سال بعد وطن واپس سعودی تنصیبات پر حوثی حملے، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا صحت اور فارما شعبے میں خود انحصاری، برآمدات بڑھانے کیلئے اہم پیش رفت ملکی برآمدات 30.139 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، 45 فیصد اضافہ پاکستان کی معاشی پوزیشن مضبوط، آئی ایم ایف سے نکلنے کا موقع سرکاری قرضے 10 سال میں 340 فیصد بڑھ گئے، حجم 86.7 کھرب روپے ایران کی سخت وارننگ، حملے کیلئے سرزمین استعمال ہوئی تو جواب مختلف ہوگا اداکارہ نوال پرویز ملک رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں گلاسٹن بری 2027 کے تمام ٹکٹس 45 منٹ میں فروخت ہوگئے انجلینا جولی نے غزہ کی تباہی کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کردیں دبئی میں صبا قمر اور راکھی ساونت کی اچانک ملاقات
پاکستان خبر

ڈارک میٹر کی تلاش، سائنس دانوں کو پراسرار ذراتی سگنل مل گیا

ڈارک میٹر کی تلاش، سائنس دانوں کو پراسرار ذراتی سگنل مل گیا

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)ڈارک میٹر کی حقیقت جاننے کی کوشش میں سائنس دانوں نے ایک غیر معمولی ذراتی تعامل ریکارڈ کیا ہے، جسے اس پراسرار اور نظر نہ آنے والے مادے کی نوعیت سے متعلق اب تک کے اہم ترین شواہد میں شمار کیا جارہا ہے۔ تاہم محققین کے مطابق اسے فی الحال ڈارک میٹر کی دریافت قرار نہیں دیا جاسکتا۔یہ غیر معمولی واقعہ جنوبی ڈکوٹا میں قائم سینفورڈ زیرِ زمین تحقیقی مرکز میں تقریباً ایک میل گہرائی میں جاری لَکس زیپلِن تجربے کے دوران سامنے آیا۔لَکس زیپلِن تجربے میں تقریباً 10 ٹن انتہائی خالص مائع زینون استعمال کیا جاتا ہے، جس کا مقصد کمزور باہمی تعامل رکھنے والے بڑے ذرات کی تلاش ہے۔ یہ ذرات ڈارک میٹر کے اہم نظریاتی امیدواروں میں شامل ہیں۔تحقیق کے دوران سائنس دانوں کو ایک ایسا ذراتی تعامل ملا جس کی موجودہ معلوم پسِ منظر کے عمل سے وضاحت کرنا اب تک مشکل ہے۔ تجزیے میں سگنل کی عالمی شماریاتی اہمیت 2.6 سگما سامنے آئی، جس میں مختلف مقامات پر اتفاقاً سگنل ملنے کے امکان کو بھی شامل کیا گیا۔ یہ سطح سائنسی دریافت کے لیے مقررہ معیار سے کافی کم ہے۔سائنس دانوں کے مطابق کائنات کے کل مادے کا تقریباً 85 فیصد حصہ ڈارک میٹر پر مشتمل سمجھا جاتا ہے۔ اسے براہِ راست دیکھا نہیں جاسکتا، تاہم کہکشاؤں اور کائناتی ڈھانچوں پر اس کے کششِ ثقل کے اثرات سے اس کی موجودگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔