کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)ڈارک میٹر کی حقیقت جاننے کی کوشش میں سائنس دانوں نے ایک غیر معمولی ذراتی تعامل ریکارڈ کیا ہے، جسے اس پراسرار اور نظر نہ آنے والے مادے کی نوعیت سے متعلق اب تک کے اہم ترین شواہد میں شمار کیا جارہا ہے۔ تاہم محققین کے مطابق اسے فی الحال ڈارک میٹر کی دریافت قرار نہیں دیا جاسکتا۔یہ غیر معمولی واقعہ جنوبی ڈکوٹا میں قائم سینفورڈ زیرِ زمین تحقیقی مرکز میں تقریباً ایک میل گہرائی میں جاری لَکس زیپلِن تجربے کے دوران سامنے آیا۔لَکس زیپلِن تجربے میں تقریباً 10 ٹن انتہائی خالص مائع زینون استعمال کیا جاتا ہے، جس کا مقصد کمزور باہمی تعامل رکھنے والے بڑے ذرات کی تلاش ہے۔ یہ ذرات ڈارک میٹر کے اہم نظریاتی امیدواروں میں شامل ہیں۔تحقیق کے دوران سائنس دانوں کو ایک ایسا ذراتی تعامل ملا جس کی موجودہ معلوم پسِ منظر کے عمل سے وضاحت کرنا اب تک مشکل ہے۔ تجزیے میں سگنل کی عالمی شماریاتی اہمیت 2.6 سگما سامنے آئی، جس میں مختلف مقامات پر اتفاقاً سگنل ملنے کے امکان کو بھی شامل کیا گیا۔ یہ سطح سائنسی دریافت کے لیے مقررہ معیار سے کافی کم ہے۔سائنس دانوں کے مطابق کائنات کے کل مادے کا تقریباً 85 فیصد حصہ ڈارک میٹر پر مشتمل سمجھا جاتا ہے۔ اسے براہِ راست دیکھا نہیں جاسکتا، تاہم کہکشاؤں اور کائناتی ڈھانچوں پر اس کے کششِ ثقل کے اثرات سے اس کی موجودگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔