تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

ایلون مسک کا مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑا انتباہ

ایلون مسک کا مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑا انتباہ

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی آئندہ چند برسوں میں اسے مجموعی انسانی ذہانت سے بھی آگے لے جا سکتی ہے۔ایک انٹرویو میں ایلون مسک نے کہا کہ اگر اے آئی کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ پانچ برسوں میں یہ ٹیکنالوجی تمام انسانوں کی مشترکہ ذہانت سے زیادہ صلاحیت حاصل کر سکتی ہے، جبکہ اگلی دہائی میں انسانوں کے لیے اس پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں تقریباً ہر شعبے اور بیشتر کاموں میں انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھے گی، جس سے دنیا بھر میں کام کرنے کے انداز میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ایلون مسک کے مطابق اگر اس ٹیکنالوجی کو محفوظ انداز میں ترقی دی جائے تو یہ بے مثال معاشی خوشحالی، وسیع مواقع اور بہتر معیارِ زندگی کا باعث بن سکتی ہے، بلکہ عالمی تنازعات میں کمی لانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جوں جوں جدید اے آئی نظام ترقی کرتے جائیں گے، ان سے وابستہ خطرات بھی بڑھتے جائیں گے، اس لیے دنیا کو پہلے سے مؤثر حفاظتی اقدامات اور منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔انہوں نے تجویز دی کہ مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی بڑی کمپنیاں حفاظتی اور سکیورٹی امور پر باقاعدہ ایک دوسرے سے تعاون کریں اور صرف حکومتی قوانین پر انحصار نہ کریں۔ایلون مسک کا کہنا تھا کہ اے آئی ماڈلز کو عوام کے لیے جاری کرنے سے قبل مختلف کمپنیوں کو ایک دوسرے کے نظام کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور ان کا تدارک یقینی بنایا جا سکے۔