کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی آئندہ چند برسوں میں اسے مجموعی انسانی ذہانت سے بھی آگے لے جا سکتی ہے۔ایک انٹرویو میں ایلون مسک نے کہا کہ اگر اے آئی کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ پانچ برسوں میں یہ ٹیکنالوجی تمام انسانوں کی مشترکہ ذہانت سے زیادہ صلاحیت حاصل کر سکتی ہے، جبکہ اگلی دہائی میں انسانوں کے لیے اس پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں تقریباً ہر شعبے اور بیشتر کاموں میں انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھے گی، جس سے دنیا بھر میں کام کرنے کے انداز میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ایلون مسک کے مطابق اگر اس ٹیکنالوجی کو محفوظ انداز میں ترقی دی جائے تو یہ بے مثال معاشی خوشحالی، وسیع مواقع اور بہتر معیارِ زندگی کا باعث بن سکتی ہے، بلکہ عالمی تنازعات میں کمی لانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جوں جوں جدید اے آئی نظام ترقی کرتے جائیں گے، ان سے وابستہ خطرات بھی بڑھتے جائیں گے، اس لیے دنیا کو پہلے سے مؤثر حفاظتی اقدامات اور منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔انہوں نے تجویز دی کہ مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی بڑی کمپنیاں حفاظتی اور سکیورٹی امور پر باقاعدہ ایک دوسرے سے تعاون کریں اور صرف حکومتی قوانین پر انحصار نہ کریں۔ایلون مسک کا کہنا تھا کہ اے آئی ماڈلز کو عوام کے لیے جاری کرنے سے قبل مختلف کمپنیوں کو ایک دوسرے کے نظام کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور ان کا تدارک یقینی بنایا جا سکے۔