تازہ ترین
صدر مملکت اور وزیر اعظم کا کیپٹن محمد سرور شہید کے 78 ویں یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کوٹلی میں انتخابی خلاف ورزی، دو پریزائیڈنگ افسران گرفتار فتنہ الہندوستان کے گرفتار دہشت گرد کے سنسنی خیز انکشافات رہائی تحریک پر سہیل آفریدی کا آئینی عدالت میں جواب جمع ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 624 زخمی ملائیشیا کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا مؤقف برقرار یائر گولن کی نیتن یاہو پر تنقید، فوجیوں کو خطرات کا ذمہ دار قرار دے دیا بدخشان میں جھڑپیں، طالبان کے کنٹرول کے دعوؤں پر سوالات پنجاب میں گندم خریداری نظام ناکام، نیا ماڈل متعارف کرانے کی تیاری اسٹیٹ بینک کا اہم اجلاس، شرح سود کے تعین کا فیصلہ آج ہوگا پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 60 روپے تک اضافہ یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ، پاکستان کیلئے محتاط جائزہ پاکستان کی محتاط بیٹنگ، ویسٹ انڈیز کے خلاف پوزیشن مضبوط پاکستان، جنوبی کوریا ہاکی ٹیسٹ سیریز کا شیڈول جاری ابھیشیک شرما کی بیٹنگ ناکام، بولنگ میں شاندار کارکردگی پاکستان انڈر 21 ہاکی ٹیم عمان ٹیسٹ سیریز کیلئے روانہ
پاکستان خبر

ایلون مسک کا مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑا انتباہ

ایلون مسک کا مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑا انتباہ

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی آئندہ چند برسوں میں اسے مجموعی انسانی ذہانت سے بھی آگے لے جا سکتی ہے۔ایک انٹرویو میں ایلون مسک نے کہا کہ اگر اے آئی کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ پانچ برسوں میں یہ ٹیکنالوجی تمام انسانوں کی مشترکہ ذہانت سے زیادہ صلاحیت حاصل کر سکتی ہے، جبکہ اگلی دہائی میں انسانوں کے لیے اس پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں تقریباً ہر شعبے اور بیشتر کاموں میں انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھے گی، جس سے دنیا بھر میں کام کرنے کے انداز میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ایلون مسک کے مطابق اگر اس ٹیکنالوجی کو محفوظ انداز میں ترقی دی جائے تو یہ بے مثال معاشی خوشحالی، وسیع مواقع اور بہتر معیارِ زندگی کا باعث بن سکتی ہے، بلکہ عالمی تنازعات میں کمی لانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جوں جوں جدید اے آئی نظام ترقی کرتے جائیں گے، ان سے وابستہ خطرات بھی بڑھتے جائیں گے، اس لیے دنیا کو پہلے سے مؤثر حفاظتی اقدامات اور منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔انہوں نے تجویز دی کہ مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی بڑی کمپنیاں حفاظتی اور سکیورٹی امور پر باقاعدہ ایک دوسرے سے تعاون کریں اور صرف حکومتی قوانین پر انحصار نہ کریں۔ایلون مسک کا کہنا تھا کہ اے آئی ماڈلز کو عوام کے لیے جاری کرنے سے قبل مختلف کمپنیوں کو ایک دوسرے کے نظام کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور ان کا تدارک یقینی بنایا جا سکے۔