تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

یورپی یونین نے فیس بک اور انسٹاگرام کے فیچرز پر میٹا سے وضاحت طلب کر لی

یورپی یونین نے فیس بک اور انسٹاگرام کے فیچرز پر میٹا سے وضاحت طلب کر لی

برسلز( ویب ڈیسک) یورپی یونین نے سوشل میڈیا کمپنی میٹا سے فیس بک اور انسٹاگرام کے بعض ایسے فیچرز پر وضاحت طلب کی ہے جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ صارفین، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں، کو طویل وقت تک اسکرین پر مصروف رکھتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپی کمیشن نے میٹا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لامحدود اسکرولنگ، خودکار طور پر چلنے والی ویڈیوز اور ضرورت سے زیادہ ذاتی نوعیت کی مواد کی سفارشات جیسے فیچرز میں تبدیلی کرے، کیونکہ یورپی یونین کے مطابق یہ عناصر بچوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اگر میٹا یورپی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب پائی گئی تو کمپنی کو اپنی عالمی سالانہ آمدنی کے 6 فیصد تک جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب میٹا نے ان الزامات سے اختلاف کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے کمپنی نے متعدد اقدامات کیے ہیں، تاہم یورپی یونین کی رپورٹ میں ان کوششوں کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔