نیویارک( ویب ڈیسک)سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مریخ کے اندر بڑے پیمانے پر میگما کے نظام موجود رہے ہیں، جو اس سیارے پر زندگی کے آثار کی تلاش میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔نئی تحقیق کے مطابق مریخ کے اندر ماضی میں پگھلی ہوئی چٹانوں کے وسیع اور پیچیدہ نظام موجود تھے، جو کئی لحاظ سے زمین پر پائے جانے والے میگما نظاموں سے مشابہت رکھتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اس روایتی تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ اس نوعیت کے میگما نظام صرف ان سیاروں پر تشکیل پا سکتے ہیں جہاں ٹیکٹونک پلیٹیں موجود ہوں اور حرکت کرتی ہوں۔سائنس دانوں کے مطابق مریخ ایک ایسا سیارہ ہے جس کی بیرونی سطح زمین کی طرح متحرک پلیٹوں میں تقسیم نہیں، اسی لیے ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کی سطح اور اندرونی ساخت نسبتاً سادہ ہوگی۔ماہرین کا خیال ہے کہ مریخ کے اندر پیچیدہ میگما نظاموں کی موجودگی وہاں ماضی میں سازگار ماحول اور ممکنہ طور پر زندگی کے آثار کی تلاش میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔