کراچی( ویب ڈیسک) ہمیشہ سے یہ تصور کیا جاتا رہا ہے کہ ہیرا بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، تاہم انتہائی پتلی اور لچکدار ہیرے کی جھلیوں میں مضبوط برقی اثر سامنے آنے کے بعد یہ مفروضہ چیلنج ہوگیا ہے۔ہانگ کانگ یونیورسٹی کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ انتہائی پتلی اور لچکدار ہیرے کی جھلی دباؤ یا موڑنے پر قابلِ پیمائش پیزو برقی ردِعمل پیدا کرسکتی ہے۔ اس غیر متوقع دریافت سے ہیرے پر مبنی سینسرز، چھوٹے توانائی کے نظام اور خودکار طبی آلات کی تیاری کے نئے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔اس تحقیق کی قیادت ہانگ کانگ یونیورسٹی کے شعبہ برقی و کمپیوٹر انجینئرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر زیکن چو اور شعبہ مکینیکل انجینئرنگ کے پروفیسر یوآن لن نے کی۔انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز سے ہی ہیرے کو عموماً غیر پیزو برقی مادے کے طور پر درجہ بند کیا جاتا رہا ہے، یعنی یہ سمجھا جاتا تھا کہ میکانکی طور پر دباؤ یا تبدیلی کا شکار ہونے پر اس میں برقی وولٹیج پیدا نہیں ہوگا۔محققین نے یہ جانچنے کے لیے کہ انتہائی میکانی حالات میں ہیرا مختلف انداز میں ردِعمل دے سکتا ہے یا نہیں، ایک جدید تہہ برداری کے طریقے سے انتہائی پتلی اور لچکدار کثیر بلوری ہیرے کی جھلی تیار کی۔ہیرے کو انتہائی باریک شکل دینے سے اسے زیادہ آسانی سے موڑنا ممکن ہوگیا۔ محققین نے جب ہیرے کی جھلی کو موڑا تو اس میں مستحکم برقی وولٹیج کے سگنلز ریکارڈ کیے گئے۔