تازہ ترین
وزیر دفاعی پیداوار کی وزیراعظم سے ملاقات، مکہ معاہدے پر مبارکباد 79واں جشنِ آزادی، تجدیدِ عہدِ وفا کا شاندار ٹیزر جاری لاہور میٹرو بس سروس بند ہونے کا خطرہ ٹل گیا شمالی وزیرستان میں رات کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ترکی پارلیمنٹ کا پی کے کے جنگجوؤں کو جزوی معافی کا قانون منظور آبنائے ہرمز محفوظ بنانے کیلئے امریکی حملے، ناکہ بندی روکنا ہوگی: عراقچی ریاض ایئر کی ڈھاکہ کیلئے براہِ راست پروازیں شروع ٹرمپ کا ایران سے جنگی نقصانات کا معاوضہ لینے کا اعلان بلوچستان سیلاب متاثرین کی رہائشی امداد کا فنڈ منتقل کرنے پر ورلڈ بینک برہم پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1000 پوائنٹس گر گیا حکومت اور گڈز ٹرانسپورٹرز میں مذاکرات ناکام، ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ ایران امریکا کشیدگی، عالمی فضائی صنعت شدید بحران کا شکار ون ڈے ورلڈکپ 2027 میں 14 ٹیمیں شریک ہوں گی کراچی کی حالت دیکھ کر بہت شرمندگی ہوتی ہے: شاہد آفریدی شان مسعود کی انگلی زخمی، پریکٹس میچ میں شرکت مشکوک ربادا وسیم اکرم کی 1992ء کی کارکردگی کے معترف
پاکستان خبر

فیس بک کا نیا اے آئی فیچر، صارفین کی رازداری پر سوالات

فیس بک کا نیا اے آئی فیچر، صارفین کی رازداری پر سوالات

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) فیس بک پر کوئی بھی معلومات شیئر کرنے سے پہلے احتیاط ضروری ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ آپ کی عوامی پوسٹ کسی غیر متوقع طریقے سے سائبر جرائم پیشہ عناصر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو جائے۔اگر کوئی صارف فیس بک پر اپنے ذاتی معاملات، اختلافات یا روزمرہ زندگی سے متعلق کوئی بات شیئر کرتا ہے اور وہی معلومات مستقبل میں مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ کے ذریعے سامنے آ جائے تو یہ صورتحال تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔رپورٹس کے مطابق فیس بک کا نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ نظام عوامی پوسٹس کو معلوماتی مواد کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جس سے جہاں معلومات تک رسائی آسان ہو سکتی ہے، وہیں سائبر جرائم اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔فیس بک اپنے سرچ نظام میں بڑی تبدیلی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد سرچ بار صرف الفاظ تلاش کرنے کے بجائے ایک ذہین معاون کی طرح کام کرے گا اور صارفین کو سوال و جواب کے انداز میں معلومات فراہم کرے گا۔نئے نظام کے ذریعے صارفین کئی سال پرانی عوامی پوسٹس، تبصروں اور دیگر دستیاب معلومات کو آسانی سے تلاش کر سکیں گے۔ اس سہولت کے باعث وہ مواد بھی چند لمحوں میں سامنے آ سکے گا جسے پہلے ہزاروں پوسٹس کے درمیان تلاش کرنا مشکل ہوتا تھا۔ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ سہولت معلومات تک رسائی کو تیز اور آسان بنا سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ صارفین کی رازداری اور آن لائن تحفظ سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عوامی پوسٹس کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں تلاش اور جانچا جانے لگا تو سائبر فراڈ میں ملوث افراد صارفین کی دستیاب معلومات سے فائدہ اٹھا کر انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات پر مشتمل پوسٹس کو عوامی رکھنے سے گریز کریں اور رازداری کی ترتیبات کو محدود رکھیں۔ اس کے لیے فیس بک کی سیٹنگز میں جا کر "پرانے عوامی مراسلات کو محدود کریں" کے آپشن کا استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے پرانی عوامی پوسٹس کو صرف دوستوں تک محدود کیا جا سکتا ہے۔