تازہ ترین
انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی
پاکستان خبر

فیس بک کا نیا اے آئی فیچر، صارفین کی رازداری پر سوالات

فیس بک کا نیا اے آئی فیچر، صارفین کی رازداری پر سوالات

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) فیس بک پر کوئی بھی معلومات شیئر کرنے سے پہلے احتیاط ضروری ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ آپ کی عوامی پوسٹ کسی غیر متوقع طریقے سے سائبر جرائم پیشہ عناصر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو جائے۔اگر کوئی صارف فیس بک پر اپنے ذاتی معاملات، اختلافات یا روزمرہ زندگی سے متعلق کوئی بات شیئر کرتا ہے اور وہی معلومات مستقبل میں مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ کے ذریعے سامنے آ جائے تو یہ صورتحال تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔رپورٹس کے مطابق فیس بک کا نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ نظام عوامی پوسٹس کو معلوماتی مواد کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جس سے جہاں معلومات تک رسائی آسان ہو سکتی ہے، وہیں سائبر جرائم اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔فیس بک اپنے سرچ نظام میں بڑی تبدیلی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد سرچ بار صرف الفاظ تلاش کرنے کے بجائے ایک ذہین معاون کی طرح کام کرے گا اور صارفین کو سوال و جواب کے انداز میں معلومات فراہم کرے گا۔نئے نظام کے ذریعے صارفین کئی سال پرانی عوامی پوسٹس، تبصروں اور دیگر دستیاب معلومات کو آسانی سے تلاش کر سکیں گے۔ اس سہولت کے باعث وہ مواد بھی چند لمحوں میں سامنے آ سکے گا جسے پہلے ہزاروں پوسٹس کے درمیان تلاش کرنا مشکل ہوتا تھا۔ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ سہولت معلومات تک رسائی کو تیز اور آسان بنا سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ صارفین کی رازداری اور آن لائن تحفظ سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عوامی پوسٹس کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں تلاش اور جانچا جانے لگا تو سائبر فراڈ میں ملوث افراد صارفین کی دستیاب معلومات سے فائدہ اٹھا کر انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات پر مشتمل پوسٹس کو عوامی رکھنے سے گریز کریں اور رازداری کی ترتیبات کو محدود رکھیں۔ اس کے لیے فیس بک کی سیٹنگز میں جا کر "پرانے عوامی مراسلات کو محدود کریں" کے آپشن کا استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے پرانی عوامی پوسٹس کو صرف دوستوں تک محدود کیا جا سکتا ہے۔