تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

فیس بک کا نیا اے آئی فیچر، صارفین کی رازداری پر سوالات

فیس بک کا نیا اے آئی فیچر، صارفین کی رازداری پر سوالات

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) فیس بک پر کوئی بھی معلومات شیئر کرنے سے پہلے احتیاط ضروری ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ آپ کی عوامی پوسٹ کسی غیر متوقع طریقے سے سائبر جرائم پیشہ عناصر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو جائے۔اگر کوئی صارف فیس بک پر اپنے ذاتی معاملات، اختلافات یا روزمرہ زندگی سے متعلق کوئی بات شیئر کرتا ہے اور وہی معلومات مستقبل میں مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ کے ذریعے سامنے آ جائے تو یہ صورتحال تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔رپورٹس کے مطابق فیس بک کا نیا مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ نظام عوامی پوسٹس کو معلوماتی مواد کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جس سے جہاں معلومات تک رسائی آسان ہو سکتی ہے، وہیں سائبر جرائم اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔فیس بک اپنے سرچ نظام میں بڑی تبدیلی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے، جس کے بعد سرچ بار صرف الفاظ تلاش کرنے کے بجائے ایک ذہین معاون کی طرح کام کرے گا اور صارفین کو سوال و جواب کے انداز میں معلومات فراہم کرے گا۔نئے نظام کے ذریعے صارفین کئی سال پرانی عوامی پوسٹس، تبصروں اور دیگر دستیاب معلومات کو آسانی سے تلاش کر سکیں گے۔ اس سہولت کے باعث وہ مواد بھی چند لمحوں میں سامنے آ سکے گا جسے پہلے ہزاروں پوسٹس کے درمیان تلاش کرنا مشکل ہوتا تھا۔ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ سہولت معلومات تک رسائی کو تیز اور آسان بنا سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ صارفین کی رازداری اور آن لائن تحفظ سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عوامی پوسٹس کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں تلاش اور جانچا جانے لگا تو سائبر فراڈ میں ملوث افراد صارفین کی دستیاب معلومات سے فائدہ اٹھا کر انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات پر مشتمل پوسٹس کو عوامی رکھنے سے گریز کریں اور رازداری کی ترتیبات کو محدود رکھیں۔ اس کے لیے فیس بک کی سیٹنگز میں جا کر "پرانے عوامی مراسلات کو محدود کریں" کے آپشن کا استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے ذریعے پرانی عوامی پوسٹس کو صرف دوستوں تک محدود کیا جا سکتا ہے۔