واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکا کی چار ریاستوں نے ٹیکنالوجی کمپنی میٹا پلیٹ فارمز پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے فیس بک اور انسٹاگرام کو جان بوجھ کر اس انداز میں تیار کیا کہ نوجوان صارفین ان کے عادی بن جائیں، جبکہ ان پلیٹ فارمز کی حفاظتی خصوصیات سے متعلق عوام کو گمراہ کیا گیا۔میٹا کی حالیہ عدالتی درخواست کے مطابق ریاستوں کی جانب سے مجوزہ جرمانے کی مالیت 1400 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو کمپنی کی تقریباً 1500 ارب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو کے قریب ہے۔رپورٹس کے مطابق مقدمے کی سماعت اگست میں امریکی شہر اوکلینڈ میں شروع ہوگی، جہاں کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی کی ریاستیں مؤقف اختیار کریں گی کہ میٹا نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے لت پیدا کرنے والی ڈیجیٹل مصنوعات تیار کر کے صارفین کے تحفظ سے متعلق ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کی۔دوسری جانب میٹا نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ جرمانے کی نہ تو کوئی قانونی بنیاد ہے اور نہ ہی اس کی تائید میں ٹھوس شواہد موجود ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین کے تحفظ سے متعلق قوانین کی تاریخ میں اتنے بڑے مالی جرمانے کی کوئی مثال موجود نہیں۔واضح رہے کہ اس مقدمے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں آیا اور الزامات اس وقت عدالتی کارروائی کے مراحل میں ہیں۔