تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

امریکا کی چار ریاستوں کا میٹا پر 1400 ارب ڈالر جرمانے کا دعویٰ

امریکا کی چار ریاستوں کا میٹا پر 1400 ارب ڈالر جرمانے کا دعویٰ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکا کی چار ریاستوں نے ٹیکنالوجی کمپنی میٹا پلیٹ فارمز پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے فیس بک اور انسٹاگرام کو جان بوجھ کر اس انداز میں تیار کیا کہ نوجوان صارفین ان کے عادی بن جائیں، جبکہ ان پلیٹ فارمز کی حفاظتی خصوصیات سے متعلق عوام کو گمراہ کیا گیا۔میٹا کی حالیہ عدالتی درخواست کے مطابق ریاستوں کی جانب سے مجوزہ جرمانے کی مالیت 1400 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو کمپنی کی تقریباً 1500 ارب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو کے قریب ہے۔رپورٹس کے مطابق مقدمے کی سماعت اگست میں امریکی شہر اوکلینڈ میں شروع ہوگی، جہاں کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی کی ریاستیں مؤقف اختیار کریں گی کہ میٹا نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے لت پیدا کرنے والی ڈیجیٹل مصنوعات تیار کر کے صارفین کے تحفظ سے متعلق ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کی۔دوسری جانب میٹا نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ جرمانے کی نہ تو کوئی قانونی بنیاد ہے اور نہ ہی اس کی تائید میں ٹھوس شواہد موجود ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین کے تحفظ سے متعلق قوانین کی تاریخ میں اتنے بڑے مالی جرمانے کی کوئی مثال موجود نہیں۔واضح رہے کہ اس مقدمے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں آیا اور الزامات اس وقت عدالتی کارروائی کے مراحل میں ہیں۔