تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

امریکا کی چار ریاستوں کا میٹا پر 1400 ارب ڈالر جرمانے کا دعویٰ

امریکا کی چار ریاستوں کا میٹا پر 1400 ارب ڈالر جرمانے کا دعویٰ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکا کی چار ریاستوں نے ٹیکنالوجی کمپنی میٹا پلیٹ فارمز پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے فیس بک اور انسٹاگرام کو جان بوجھ کر اس انداز میں تیار کیا کہ نوجوان صارفین ان کے عادی بن جائیں، جبکہ ان پلیٹ فارمز کی حفاظتی خصوصیات سے متعلق عوام کو گمراہ کیا گیا۔میٹا کی حالیہ عدالتی درخواست کے مطابق ریاستوں کی جانب سے مجوزہ جرمانے کی مالیت 1400 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو کمپنی کی تقریباً 1500 ارب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو کے قریب ہے۔رپورٹس کے مطابق مقدمے کی سماعت اگست میں امریکی شہر اوکلینڈ میں شروع ہوگی، جہاں کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی کی ریاستیں مؤقف اختیار کریں گی کہ میٹا نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے لت پیدا کرنے والی ڈیجیٹل مصنوعات تیار کر کے صارفین کے تحفظ سے متعلق ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کی۔دوسری جانب میٹا نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ جرمانے کی نہ تو کوئی قانونی بنیاد ہے اور نہ ہی اس کی تائید میں ٹھوس شواہد موجود ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین کے تحفظ سے متعلق قوانین کی تاریخ میں اتنے بڑے مالی جرمانے کی کوئی مثال موجود نہیں۔واضح رہے کہ اس مقدمے کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں آیا اور الزامات اس وقت عدالتی کارروائی کے مراحل میں ہیں۔