تازہ ترین
خیبرپختونخوا حکومت کا سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس واپسی کا اعلان مولانا فضل الرحمان کے بیان پر تنقید بلاجواز ہے، عطاء الرحمان زیارت شہداء معاملہ: بلوچستان حکومت اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ طے خیبر پختونخوا میں گلیشیئر جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری ناروے میں خوفناک آتشزدگی، 100 سے زائد گھر تباہ امریکا نے طلبا کے ویزوں میں توسیع کے قواعد سخت کر دیے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل 120 سائنسدانوں کے استعفوں پر بھارتی خلائی ادارے میں نئی پابندیاں گزشتہ مالی سال پاکستان نے 16.2 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرض حاصل کیے پیٹرول پمپ مالکان نے حکومتی پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی مسترد کر دی روہت شرما کی ریٹائرمنٹ کی افواہیں، بی سی سی آئی برہم ورلڈ کپ: تیسری پوزیشن کے لیے فرانس اور انگلینڈ آمنے سامنے آسکر یافتہ آئرش اداکارہ برینڈا فریکر 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں انیل کپور نے مجھے اداکاری پر آمادہ کیا: دیا مرزا واٹس ایپ ہیکنگ روکنے کیلئے ایکشن پلان تیار واٹس ایپ ہیکنگ سے نمٹنے کیلئے خصوصی ہیلپ لائن قائم ہوگی
پاکستان خبر

گوگل نے جیمینائی کے استعمال پر پابندیاں عائد کر دیں

گوگل نے جیمینائی کے استعمال پر پابندیاں عائد کر دیں

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)گوگل نے میٹا کی جانب سے زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت کی طلب کے بعد اپنے جیمینائی مصنوعی ذہانت ماڈلز کے استعمال پر حدود عائد کر دی ہیں، کیونکہ کمپنی مطلوبہ گنجائش فراہم کرنے سے قاصر رہی۔رپورٹس کے مطابق گوگل نے مارچ کے دوران میٹا کو آگاہ کیا تھا کہ وہ جیمینائی ماڈلز کی وہ مکمل استعداد فراہم نہیں کر سکتا جس کی کمپنی کو ضرورت ہے۔ اس کمی کے باعث میٹا کے بعض داخلی مصنوعی ذہانت منصوبے متاثر ہوئے اور ان میں تاخیر بھی ہوئی۔رپورٹ کے مطابق گوگل کے دیگر صارفین بھی ان پابندیوں سے متاثر ہوئے، تاہم ان پر اثرات نسبتاً محدود رہے، جبکہ میٹا کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ گوگل کے مصنوعی ذہانت ماڈلز کے لیے اس کی طلب غیر معمولی حد تک زیادہ تھی۔ان حدود کے باعث میٹا نے اپنے ملازمین کو مصنوعی ذہانت کے ٹوکنز، یعنی مصنوعی ذہانت کے استعمال کی پیمائش کے لیے استعمال ہونے والی اکائیوں، کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ہدایت دی ہے۔ٹیکنالوجی کمپنیاں جدید چپس اور ڈیٹا سینٹرز پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں، اس کے باوجود مصنوعی ذہانت کی خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے درکار کمپیوٹنگ صلاحیت حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔مارچ میں ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے دوران گوگل کلاؤڈ کی آمدنی بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، تاہم سندر پچائی نے کہا کہ کمپیوٹنگ صلاحیت کی محدود دستیابی نے مزید ترقی کی رفتار کو متاثر کیا اور کلاؤڈ یونٹ کے زیر التوا آرڈرز میں سہ ماہی بنیادوں پر تقریباً دو گنا اضافے کا سبب بنی۔