کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)گوگل نے میٹا کی جانب سے زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت کی طلب کے بعد اپنے جیمینائی مصنوعی ذہانت ماڈلز کے استعمال پر حدود عائد کر دی ہیں، کیونکہ کمپنی مطلوبہ گنجائش فراہم کرنے سے قاصر رہی۔رپورٹس کے مطابق گوگل نے مارچ کے دوران میٹا کو آگاہ کیا تھا کہ وہ جیمینائی ماڈلز کی وہ مکمل استعداد فراہم نہیں کر سکتا جس کی کمپنی کو ضرورت ہے۔ اس کمی کے باعث میٹا کے بعض داخلی مصنوعی ذہانت منصوبے متاثر ہوئے اور ان میں تاخیر بھی ہوئی۔رپورٹ کے مطابق گوگل کے دیگر صارفین بھی ان پابندیوں سے متاثر ہوئے، تاہم ان پر اثرات نسبتاً محدود رہے، جبکہ میٹا کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ گوگل کے مصنوعی ذہانت ماڈلز کے لیے اس کی طلب غیر معمولی حد تک زیادہ تھی۔ان حدود کے باعث میٹا نے اپنے ملازمین کو مصنوعی ذہانت کے ٹوکنز، یعنی مصنوعی ذہانت کے استعمال کی پیمائش کے لیے استعمال ہونے والی اکائیوں، کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ہدایت دی ہے۔ٹیکنالوجی کمپنیاں جدید چپس اور ڈیٹا سینٹرز پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں، اس کے باوجود مصنوعی ذہانت کی خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے درکار کمپیوٹنگ صلاحیت حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔مارچ میں ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے دوران گوگل کلاؤڈ کی آمدنی بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، تاہم سندر پچائی نے کہا کہ کمپیوٹنگ صلاحیت کی محدود دستیابی نے مزید ترقی کی رفتار کو متاثر کیا اور کلاؤڈ یونٹ کے زیر التوا آرڈرز میں سہ ماہی بنیادوں پر تقریباً دو گنا اضافے کا سبب بنی۔