تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

گوگل نے جیمینائی کے استعمال پر پابندیاں عائد کر دیں

گوگل نے جیمینائی کے استعمال پر پابندیاں عائد کر دیں

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)گوگل نے میٹا کی جانب سے زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت کی طلب کے بعد اپنے جیمینائی مصنوعی ذہانت ماڈلز کے استعمال پر حدود عائد کر دی ہیں، کیونکہ کمپنی مطلوبہ گنجائش فراہم کرنے سے قاصر رہی۔رپورٹس کے مطابق گوگل نے مارچ کے دوران میٹا کو آگاہ کیا تھا کہ وہ جیمینائی ماڈلز کی وہ مکمل استعداد فراہم نہیں کر سکتا جس کی کمپنی کو ضرورت ہے۔ اس کمی کے باعث میٹا کے بعض داخلی مصنوعی ذہانت منصوبے متاثر ہوئے اور ان میں تاخیر بھی ہوئی۔رپورٹ کے مطابق گوگل کے دیگر صارفین بھی ان پابندیوں سے متاثر ہوئے، تاہم ان پر اثرات نسبتاً محدود رہے، جبکہ میٹا کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ گوگل کے مصنوعی ذہانت ماڈلز کے لیے اس کی طلب غیر معمولی حد تک زیادہ تھی۔ان حدود کے باعث میٹا نے اپنے ملازمین کو مصنوعی ذہانت کے ٹوکنز، یعنی مصنوعی ذہانت کے استعمال کی پیمائش کے لیے استعمال ہونے والی اکائیوں، کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ہدایت دی ہے۔ٹیکنالوجی کمپنیاں جدید چپس اور ڈیٹا سینٹرز پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں، اس کے باوجود مصنوعی ذہانت کی خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے درکار کمپیوٹنگ صلاحیت حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔مارچ میں ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے دوران گوگل کلاؤڈ کی آمدنی بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، تاہم سندر پچائی نے کہا کہ کمپیوٹنگ صلاحیت کی محدود دستیابی نے مزید ترقی کی رفتار کو متاثر کیا اور کلاؤڈ یونٹ کے زیر التوا آرڈرز میں سہ ماہی بنیادوں پر تقریباً دو گنا اضافے کا سبب بنی۔