تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

چین میں انسان نما روبوٹس نے فیکٹری میں 60 ہزار کام مکمل کر کے نیا ریکارڈ بنا لیا

چین میں انسان نما روبوٹس نے فیکٹری میں 60 ہزار کام مکمل کر کے نیا ریکارڈ بنا لیا

 بیجنگ( ویب ڈیسک)چین میں انسان نما روبوٹس نے ایک فیکٹری کی پروڈکشن لائن پر مسلسل چھ روز کام کرتے ہوئے 99.99 فیصد کامیابی کے ساتھ 60 ہزار سے زائد صنعتی کام مکمل کر لیے۔رپورٹ کے مطابق اگی بوٹ کمپنی کے تیار کردہ روبوٹس نے مشرقی چین کے شہر نینچینگ کی ایک فیکٹری میں 64 گھنٹے سے زائد وقت تک کوالٹی کنٹرول، معائنہ اور سامان کی منتقلی جیسے اہم فرائض انجام دیے، جبکہ اس پورے عمل کو براہِ راست نشر بھی کیا گیا۔اگی بوٹ کے سینئر نائب صدر یاؤ ماؤچنگ کا کہنا ہے کہ انسان نما روبوٹس کے شعبے میں اصل سوال اب یہ نہیں کہ روبوٹس کیا کچھ کر سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں حقیقی صنعتی ماحول میں کتنی مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔کمپنی کے مطابق اس تجربے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے انسان نما روبوٹس طویل عرصے تک حقیقی پیداواری ماحول میں قابلِ اعتماد طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔اگی بوٹ نے بتایا کہ کمپنی اب تک 15 ہزار سے زائد روبوٹس تیار کر چکی ہے، جسے بڑے پیمانے پر روبوٹ ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب چین کے 2026 سے 2030 تک کے نئے پانچ سالہ اقتصادی منصوبے میں انسان نما روبوٹس کو مستقبل کی ترقی کے لیے ترجیحی صنعتی شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔