تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

چین میں انسان نما روبوٹس نے فیکٹری میں 60 ہزار کام مکمل کر کے نیا ریکارڈ بنا لیا

چین میں انسان نما روبوٹس نے فیکٹری میں 60 ہزار کام مکمل کر کے نیا ریکارڈ بنا لیا

 بیجنگ( ویب ڈیسک)چین میں انسان نما روبوٹس نے ایک فیکٹری کی پروڈکشن لائن پر مسلسل چھ روز کام کرتے ہوئے 99.99 فیصد کامیابی کے ساتھ 60 ہزار سے زائد صنعتی کام مکمل کر لیے۔رپورٹ کے مطابق اگی بوٹ کمپنی کے تیار کردہ روبوٹس نے مشرقی چین کے شہر نینچینگ کی ایک فیکٹری میں 64 گھنٹے سے زائد وقت تک کوالٹی کنٹرول، معائنہ اور سامان کی منتقلی جیسے اہم فرائض انجام دیے، جبکہ اس پورے عمل کو براہِ راست نشر بھی کیا گیا۔اگی بوٹ کے سینئر نائب صدر یاؤ ماؤچنگ کا کہنا ہے کہ انسان نما روبوٹس کے شعبے میں اصل سوال اب یہ نہیں کہ روبوٹس کیا کچھ کر سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں حقیقی صنعتی ماحول میں کتنی مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔کمپنی کے مطابق اس تجربے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے انسان نما روبوٹس طویل عرصے تک حقیقی پیداواری ماحول میں قابلِ اعتماد طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔اگی بوٹ نے بتایا کہ کمپنی اب تک 15 ہزار سے زائد روبوٹس تیار کر چکی ہے، جسے بڑے پیمانے پر روبوٹ ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب چین کے 2026 سے 2030 تک کے نئے پانچ سالہ اقتصادی منصوبے میں انسان نما روبوٹس کو مستقبل کی ترقی کے لیے ترجیحی صنعتی شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔