تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

چین میں انسان نما روبوٹس نے فیکٹری میں 60 ہزار کام مکمل کر کے نیا ریکارڈ بنا لیا

چین میں انسان نما روبوٹس نے فیکٹری میں 60 ہزار کام مکمل کر کے نیا ریکارڈ بنا لیا

 بیجنگ( ویب ڈیسک)چین میں انسان نما روبوٹس نے ایک فیکٹری کی پروڈکشن لائن پر مسلسل چھ روز کام کرتے ہوئے 99.99 فیصد کامیابی کے ساتھ 60 ہزار سے زائد صنعتی کام مکمل کر لیے۔رپورٹ کے مطابق اگی بوٹ کمپنی کے تیار کردہ روبوٹس نے مشرقی چین کے شہر نینچینگ کی ایک فیکٹری میں 64 گھنٹے سے زائد وقت تک کوالٹی کنٹرول، معائنہ اور سامان کی منتقلی جیسے اہم فرائض انجام دیے، جبکہ اس پورے عمل کو براہِ راست نشر بھی کیا گیا۔اگی بوٹ کے سینئر نائب صدر یاؤ ماؤچنگ کا کہنا ہے کہ انسان نما روبوٹس کے شعبے میں اصل سوال اب یہ نہیں کہ روبوٹس کیا کچھ کر سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں حقیقی صنعتی ماحول میں کتنی مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔کمپنی کے مطابق اس تجربے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے انسان نما روبوٹس طویل عرصے تک حقیقی پیداواری ماحول میں قابلِ اعتماد طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔اگی بوٹ نے بتایا کہ کمپنی اب تک 15 ہزار سے زائد روبوٹس تیار کر چکی ہے، جسے بڑے پیمانے پر روبوٹ ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب چین کے 2026 سے 2030 تک کے نئے پانچ سالہ اقتصادی منصوبے میں انسان نما روبوٹس کو مستقبل کی ترقی کے لیے ترجیحی صنعتی شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔