جاپان( ویب ڈیسک)جاپان میں 15 سالہ ہائی اسکول کے ایک طالب علم کو مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت کے ٹول چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے سافٹ ویئر تیار کر کے سائبر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے ایک ایسا پروگرام تیار کیا جو بانڈائی نمکو فلم ورکس کی اسٹریمنگ سروس بانڈائی چینل پر سائبر حملے کے لیے استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں سروس کے آپریشنز متاثر ہوئے اور 46 ہزار سے زائد صارفین کے اکاؤنٹس حذف ہو گئے۔پولیس کے مطابق نومبر 2025 میں ہونے والے اس واقعے میں نوجوان پر دھوکا دہی کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کا شبہ ہے۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے پلیٹ فارم کے سکیورٹی نظام میں موجود مبینہ کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ کیا، جس کے باعث کمپنی کو اپنی سروس کے بعض حصے عارضی طور پر معطل کرنا پڑے۔طالب علم نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اس نے کمپیوٹر کا استعمال چوتھی جماعت سے شروع کیا تھا اور حملے میں استعمال ہونے والا بنیادی سورس کوڈ خود تیار کیا۔ اس کے بقول پروسیسنگ میں زیادہ وقت لگنے کی وجہ سے اس نے چیٹ جی پی ٹی سے مدد حاصل کی، جس کی مدد سے مختلف پروگرامنگ زبانوں میں کوڈ مکمل کیا گیا۔پولیس کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا کہ اس کی کمپنی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے پلیٹ فارم کو صرف اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہاں بڑی تعداد میں ایسے اکاؤنٹس موجود تھے جن تک رسائی حاصل کرنا ممکن تھی۔
جاپان: چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے سائبر حملے کا الزام، طالب علم گرفتار
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی