تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

ماہرہ خان کا لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب حملے پر شدید ردِعمل

ماہرہ خان کا لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب حملے پر شدید ردِعمل

کراچی( شوبز ڈیسک)پاکستان کی معروف اداکارہ ماہرہ خان نے کوئٹہ کے اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب گاہ پر اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں اداکارہ نے کہا کہ ایک خاتون انسانوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اسپتال میں موجود تھی، لیکن اسی مقام پر اس پر تیزاب پھینک کر وحشیانہ حملہ کیا گیا، جو ایک انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول عمل ہے۔ماہرہ خان نے کہا کہ وہ اس واقعے کو سوچ کر بھی کانپ جاتی ہیں اور یہ عمل سراسر ظلم اور برائی کی علامت ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو اس حملے میں شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ مکمل تحفظ کی حق دار ہیں۔اداکارہ نے مزید کہا کہ یہ صرف خواتین کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے، اور اس پر مردوں کو بھی آواز اٹھانی چاہیے اور ایسے واقعات کی کھل کر مذمت کرنی چاہیے۔یاد رہے کہ کوئٹہ کے ایک اسپتال میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد متاثرہ ڈاکٹر کو ابتدائی طبی امداد دی گئی، بعد ازاں انہیں بہتر علاج کے لیے نجی اسپتال اور پھر ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا۔