تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

ایپل اور گوگل کے ایپ ادائیگی نظام میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز

ایپل اور گوگل کے ایپ ادائیگی نظام میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز

لندن( ویب ڈیسک)برطانیہ کے مسابقتی نگران ادارے کمپیٹیشن اینڈ مارکیٹس اتھارٹی (سی ایم اے) نے ایپل اور گوگل کے ایپ ادائیگی سے متعلق قواعد میں تبدیلیوں کی تجویز پیش کر دی ہے، جس کا مقصد ایپ ڈویلپرز کے اخراجات کم کرنا اور صارفین کو کم قیمتوں کی سہولت فراہم کرنا ہے۔مجوزہ تبدیلیوں کے تحت ایپل اور گوگل کو پابند کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں کی طرف رہنمائی کرنے کی اجازت دیں۔اس وقت برطانیہ میں ایپل متبادل ادائیگی کے طریقوں کی اجازت نہیں دیتا جبکہ گوگل نے بھی اس حوالے سے مختلف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس کے باعث ڈویلپرز کو کمپنیوں کی مقرر کردہ فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔سی ایم اے کا کہنا ہے کہ اگر نئی تجاویز نافذ ہوئیں تو ایپل اور گوگل کی جانب سے وصول کی جانے والی فیس مناسب اور شفاف ہونی چاہیے۔ ادارے کے مطابق فیس میں کمی سے حاصل ہونے والا فائدہ صارفین کو کم قیمتوں کی صورت میں ملنا چاہیے یا ڈویلپرز اسے ایپس میں بہتری اور نئی سہولیات متعارف کرانے پر خرچ کریں۔یہ اقدام سی ایم اے کی جانب سے گزشتہ سال اکتوبر میں ایپل اور گوگل کو موبائل مارکیٹ میں خصوصی اسٹریٹجک حیثیت دیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت ریگولیٹر کو بڑی ٹیک کمپنیوں کے کاروباری طریقہ کار میں زیادہ مسابقت یقینی بنانے کے لیے مداخلت کا اختیار حاصل ہے۔