تازہ ترین
انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی
پاکستان خبر

کئی وی پی این ایپس صارفین کا ڈیٹا لیک کر رہی ہیں:تحقیق میں انکشاف

کئی وی پی این ایپس صارفین کا ڈیٹا لیک کر رہی ہیں:تحقیق میں انکشاف

 اسلام آباد( ویب ڈیسک)آن لائن رازداری اور تحفظ کے لیے استعمال ہونے والی متعدد معروف ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) ایپس صارفین کے اعتماد پر پورا اترنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔یونیورسٹی آف مشی گن انجینئرنگ کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی مقبول وی پی این ایپس صارفین کی حساس انٹرنیٹ معلومات افشا کر رہی ہیں یا بنیادی حفاظتی معیار پر بھی پوری نہیں اترتیں۔تحقیق کے مطابق ماہرین نے ایم وی پی اینالائزر نامی ایک جدید نظام تیار کیا ہے، جو بڑی تعداد میں موبائل وی پی این ایپس کی سیکیورٹی کا خودکار انداز میں جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تحقیق نیٹ ورک اینڈ ڈسٹری بیوٹڈ سسٹم سیکیورٹی 2026 سمپوزیم میں پیش کی گئی۔ماہرین نے اینڈرائیڈ نظام کی 281 مقبول وی پی این ایپس کا تجزیہ کیا، جس کے دوران معلوم ہوا کہ 29 ایپس صارفین کی ڈی این ایس معلومات اور براؤزر ٹریفک کو لیک کر رہی تھیں، جس سے وی پی این استعمال کرنے کا بنیادی مقصد متاثر ہو رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 20 فیصد سے زائد وی پی این ایپس انٹرنیٹ ڈیٹا کو بغیر خفیہ کاری کے منتقل کر رہی تھیں، جبکہ 60 فیصد سے زیادہ ایپس میں بنیادی حفاظتی اقدامات بھی موجود نہیں تھے، جس سے صارفین سائبر حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور یونیورسٹی آف مشی گن میں کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر رویا انصافی نے کہا کہ لاکھوں افراد اپنی آن لائن رازداری اور تحفظ کے لیے وی پی این سروسز پر انحصار کرتے ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ بہت سی ایپس بنیادی حفاظتی تقاضے بھی مکمل نہیں کر رہیں۔انہوں نے کہا کہ تحقیق کا مقصد صارفین، متعلقہ اداروں اور ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد فراہم کرنا ہے کہ وی پی این ایپس اندرونی طور پر کس طرح کام کرتی ہیں، تاکہ بہتر فیصلے کیے جا سکیں اور وی پی این صنعت کو سیکیورٹی معیار بہتر بنانے پر مجبور کیا جا سکے۔