تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

کئی وی پی این ایپس صارفین کا ڈیٹا لیک کر رہی ہیں:تحقیق میں انکشاف

کئی وی پی این ایپس صارفین کا ڈیٹا لیک کر رہی ہیں:تحقیق میں انکشاف

 اسلام آباد( ویب ڈیسک)آن لائن رازداری اور تحفظ کے لیے استعمال ہونے والی متعدد معروف ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) ایپس صارفین کے اعتماد پر پورا اترنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔یونیورسٹی آف مشی گن انجینئرنگ کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی مقبول وی پی این ایپس صارفین کی حساس انٹرنیٹ معلومات افشا کر رہی ہیں یا بنیادی حفاظتی معیار پر بھی پوری نہیں اترتیں۔تحقیق کے مطابق ماہرین نے ایم وی پی اینالائزر نامی ایک جدید نظام تیار کیا ہے، جو بڑی تعداد میں موبائل وی پی این ایپس کی سیکیورٹی کا خودکار انداز میں جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تحقیق نیٹ ورک اینڈ ڈسٹری بیوٹڈ سسٹم سیکیورٹی 2026 سمپوزیم میں پیش کی گئی۔ماہرین نے اینڈرائیڈ نظام کی 281 مقبول وی پی این ایپس کا تجزیہ کیا، جس کے دوران معلوم ہوا کہ 29 ایپس صارفین کی ڈی این ایس معلومات اور براؤزر ٹریفک کو لیک کر رہی تھیں، جس سے وی پی این استعمال کرنے کا بنیادی مقصد متاثر ہو رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 20 فیصد سے زائد وی پی این ایپس انٹرنیٹ ڈیٹا کو بغیر خفیہ کاری کے منتقل کر رہی تھیں، جبکہ 60 فیصد سے زیادہ ایپس میں بنیادی حفاظتی اقدامات بھی موجود نہیں تھے، جس سے صارفین سائبر حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور یونیورسٹی آف مشی گن میں کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر رویا انصافی نے کہا کہ لاکھوں افراد اپنی آن لائن رازداری اور تحفظ کے لیے وی پی این سروسز پر انحصار کرتے ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ بہت سی ایپس بنیادی حفاظتی تقاضے بھی مکمل نہیں کر رہیں۔انہوں نے کہا کہ تحقیق کا مقصد صارفین، متعلقہ اداروں اور ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد فراہم کرنا ہے کہ وی پی این ایپس اندرونی طور پر کس طرح کام کرتی ہیں، تاکہ بہتر فیصلے کیے جا سکیں اور وی پی این صنعت کو سیکیورٹی معیار بہتر بنانے پر مجبور کیا جا سکے۔