تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

کئی وی پی این ایپس صارفین کا ڈیٹا لیک کر رہی ہیں:تحقیق میں انکشاف

کئی وی پی این ایپس صارفین کا ڈیٹا لیک کر رہی ہیں:تحقیق میں انکشاف

 اسلام آباد( ویب ڈیسک)آن لائن رازداری اور تحفظ کے لیے استعمال ہونے والی متعدد معروف ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) ایپس صارفین کے اعتماد پر پورا اترنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔یونیورسٹی آف مشی گن انجینئرنگ کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی مقبول وی پی این ایپس صارفین کی حساس انٹرنیٹ معلومات افشا کر رہی ہیں یا بنیادی حفاظتی معیار پر بھی پوری نہیں اترتیں۔تحقیق کے مطابق ماہرین نے ایم وی پی اینالائزر نامی ایک جدید نظام تیار کیا ہے، جو بڑی تعداد میں موبائل وی پی این ایپس کی سیکیورٹی کا خودکار انداز میں جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ تحقیق نیٹ ورک اینڈ ڈسٹری بیوٹڈ سسٹم سیکیورٹی 2026 سمپوزیم میں پیش کی گئی۔ماہرین نے اینڈرائیڈ نظام کی 281 مقبول وی پی این ایپس کا تجزیہ کیا، جس کے دوران معلوم ہوا کہ 29 ایپس صارفین کی ڈی این ایس معلومات اور براؤزر ٹریفک کو لیک کر رہی تھیں، جس سے وی پی این استعمال کرنے کا بنیادی مقصد متاثر ہو رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 20 فیصد سے زائد وی پی این ایپس انٹرنیٹ ڈیٹا کو بغیر خفیہ کاری کے منتقل کر رہی تھیں، جبکہ 60 فیصد سے زیادہ ایپس میں بنیادی حفاظتی اقدامات بھی موجود نہیں تھے، جس سے صارفین سائبر حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور یونیورسٹی آف مشی گن میں کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر رویا انصافی نے کہا کہ لاکھوں افراد اپنی آن لائن رازداری اور تحفظ کے لیے وی پی این سروسز پر انحصار کرتے ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ بہت سی ایپس بنیادی حفاظتی تقاضے بھی مکمل نہیں کر رہیں۔انہوں نے کہا کہ تحقیق کا مقصد صارفین، متعلقہ اداروں اور ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد فراہم کرنا ہے کہ وی پی این ایپس اندرونی طور پر کس طرح کام کرتی ہیں، تاکہ بہتر فیصلے کیے جا سکیں اور وی پی این صنعت کو سیکیورٹی معیار بہتر بنانے پر مجبور کیا جا سکے۔