کیلیفورنیا( ویب ڈیسک) ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے متعلق ایک نئی رپورٹ نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں بحث چھیڑ دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمپنی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس ایک نئی اسمارٹ ڈیوائس پر کام کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس ڈیوائس کا ابتدائی پروٹوٹائپ مبینہ طور پر سرمایہ کاروں اور شیئر ہولڈرز کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ڈیوائس انتہائی پتلے ڈیزائن کی حامل ہے اور شکل و صورت میں جدید اسمارٹ فون سے مشابہ ہے، تاہم اس کی بنیادی توجہ روایتی موبائل فیچرز کے بجائے اے آئی صلاحیتوں پر مرکوز ہوگی۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپیس ایکس مستقبل میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ہارڈویئر صارفین تک پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اس شعبے میں ایپل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ مبینہ طور پر یہ ڈیوائس اینڈرائیڈ یا آئی او ایس کے بجائے ایک کسٹم آپریٹنگ سسٹم پر کام کرے گی، جس میں کوالکوم پروسیسر اور ایکس اے آئی کے ماڈلز شامل ہوں گے۔مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس منصوبے میں ایلون مسک کے ’’سپر ایپ‘‘ تصور کو بھی شامل کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ایک ہی پلیٹ فارم پر میسجنگ، ادائیگیاں، خریداری، رائیڈ شیئرنگ اور دیگر ڈیجیٹل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔تاہم ایلون مسک کی جانب سے اس رپورٹ کی تردید بھی سامنے آئی ہے، جس کے بعد اس منصوبے سے متعلق قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔
اسپیس ایکس کی مبینہ اے آئی اسمارٹ ڈیوائس پر کام، ایلون مسک کی تردید
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی