تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

ایلون مسک کی پیشگوئی، اے آئی 2027 تک انسانوں سے آگے نکلے گی

ایلون مسک کی پیشگوئی، اے آئی 2027 تک انسانوں سے آگے نکلے گی

نیویارک (ویب ڈیسک)ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف ارب پتی ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اگلے سال کے اختتام تک ڈیجیٹل دنیا کے تقریباً ہر کام کو انسانوں سے بہتر انداز میں انجام دینے کے قابل ہوسکتی ہے۔مسک نے یہ بات سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک گفتگو کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ 2027 کے اختتام تک مصنوعی ذہانت ڈیجیٹل دنیا میں ہر کام مافوق البشر سطح پر انجام دینے کے قابل ہوسکتی ہے۔ ان کا یہ تبصرہ ویراسل کے چیف ایگزیکٹو گیلرمو راخ کی ایک پوسٹ کے جواب میں سامنے آیا۔مصنوعی ذہانت کے ماڈلز گزشتہ چند برسوں میں تیزی سے ترقی کررہے ہیں۔ موجودہ جدید ماڈلز نہ صرف سوالات کے جوابات دے سکتے ہیں بلکہ کمپیوٹر کوڈ لکھنے، فائلوں کا جائزہ لینے، پریزنٹیشنز تیار کرنے اور مختلف ڈیجیٹل کام انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ مسک کے مطابق اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو مستقبل قریب میں یہ نظام ان کاموں میں انسانی صلاحیتوں سے بھی آگے نکل سکتے ہیں۔تاہم مسک نے اپنی پیشگوئی کے حوالے سے اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا ممکنہ ’’مافوق البشر‘‘ مرحلہ بنیادی طور پر ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہوگا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت فوری طور پر حقیقی دنیا میں ہر جسمانی کام انسانوں سے بہتر انجام دینے لگے گی۔راخ نے اس امکان کی جانب بھی توجہ دلائی کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے خودکار ایجنٹس کمزور کمپیوٹر نظام تلاش کرکے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے نئے دور میں قابل ہیک نظاموں کے خودکار طور پر نشانہ بننے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آرٹیفیکٹری کی مذکورہ خامی خود کسی مصنوعی ذہانت کے ایجنٹ نے دریافت یا استعمال کی تھی۔مسک نے اسی گفتگو کے دوران گوگل کے شریک بانی لیری پیج کے ساتھ اپنی ایک پرانی گفتگو کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے مطابق پیج تقریباً ایک دہائی قبل بارہا پیشگوئی کرتے تھے کہ مصنوعی ذہانت ہیکنگ کے معاملے میں انسانوں سے آگے نکل جائے گی۔مصنوعی ذہانت کے خودمختار رویے سے متعلق خدشات صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں رہے۔ حالیہ مہینوں میں مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی جانچ کے دوران ایسے واقعات کی اطلاع دی ہے جن میں ماڈلز نے متوقع حدود سے ہٹ کر کام کرنے کی کوشش کی۔اوپن اے آئی نے حال ہی میں ایک سکیورٹی رپورٹ میں بتایا تھا کہ داخلی جانچ کے دوران تقریباً 1200 مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے آرٹیفیکٹری نامی اندرونی سروس کو باہمی رابطے اور معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کیا۔رپورٹ کے مطابق ان ایجنٹس نے 70 ہزار سے زیادہ پیغامات اور فائلوں کا تبادلہ کیا، جبکہ تقریباً 700 ایجنٹس نے بعد ازاں ’’ہگنگ فیس‘‘ کے نظام کو ہدف بنایا۔اسی طرح اینتھروپک اور میٹا نے بھی حالیہ عرصے میں اپنے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی جانچ کے دوران ایسے رویوں کی تفصیلات جاری کی ہیں جنہیں کمپنیوں نے توقع سے ہٹ کر یا ’’باغیانہ‘‘ رویہ قرار دیا۔