ہیوسٹن (ویب ڈیسک)ناسا کی جدید ترین خلائی دوربین رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کو خلا میں روانہ کردیا گیا۔یہ دوربین دیگر ستاروں کے گرد گردش کرنے والے سیاروں کی تلاش، کائنات میں پوشیدہ تاریک توانائی کے راز جاننے اور کائنات کا پہلے سے کہیں زیادہ وسیع مشاہدہ کرنے کے مشن پر روانہ ہوئی ہے۔اسپیس ایکس نے 4.3 ارب ڈالر مالیت کی رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کو فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا۔ رومن تقریباً 16 لاکھ کلومیٹر دور ایک مشاہداتی مقام کی جانب روانہ ہوئی ہے، جہاں ناسا کی ایک اور اہم اور مہنگی خلائی دوربین جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ بھی موجود ہے۔بس کے حجم کے برابر اس دوربین کا نام ناسا کی پہلی چیف ماہر فلکیات آنجہانی نینسی گریس رومن کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ اپنی منزل تک پہنچنے میں تین ماہ سے زیادہ وقت لے گی، جس کے بعد خلا سے کائنات کے پوشیدہ حصوں کا اب تک کا وسیع ترین مشاہدہ کرے گی اور ایسے حقائق سامنے لائے گی جن کا تصور بھی مشکل ہے۔ناسا کی سائنس مشن ڈائریکٹر نکی فاکس نے کہا کہ یہ دوربین ہزاروں سپرنووا، دسیوں ہزار سیارے، اربوں کہکشائیں اور دسیوں ارب ستارے دریافت کرے گی۔ وسیع مشاہداتی میدان کے باعث یہ ایسے مشاہدات کرنے کے قابل ہوگی جو اس سے پہلے ممکن نہیں تھے۔راکٹ کے زوردار انداز میں روانہ ہونے کے چند منٹ بعد اس کے دوبارہ قابل استعمال دونوں سائیڈ بوسٹر نیچے اترے اور ایک سنسنی خیز منظر میں تیز آواز کے ساتھ کیپ کیناویرل میں واپس لینڈ کرگئے۔ کچھ دیر بعد دوربین بھی راکٹ کے اوپری حصے سے کامیابی سے الگ ہوگئی، جس پر زمینی کنٹرولرز نے تالیاں بجاکر خوشی کا اظہار کیا۔رومن کا مشاہداتی میدان ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مقابلے میں 100 گنا سے بھی زیادہ وسیع ہے۔ ہبل خلا میں 36 سال گزارنے کے باوجود اب بھی کائنات کی شاندار تصاویر بھیج رہی ہے۔جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ بھی چند سال قبل اس مشن میں شامل ہوئی۔ اس کا مشاہداتی میدان نسبتاً محدود ہے، تاہم یہ انتہائی درستگی کے ساتھ ان اجرام فلکی کا تفصیلی مشاہدہ کرسکتی ہے جو کائنات کے وجود میں آنے والے بگ بینگ کے تقریباً اتنے ہی قدیم ہیں۔یہ تینوں خلائی دوربینیں یورپی خلائی ایجنسی کے ’’یوکلڈ‘‘ مشن اور چلی میں نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی ویرا سی روبن آبزرویٹری کے ساتھ مل کر کائنات کے بعض بڑے رازوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش کریں گی۔دریافت کی منتظر بے شمار کہکشاؤں میں ایسے ستارے بھی موجود ہیں جن کے گرد سیارے گردش کرتے ہیں۔ رومن جب ان نئی دنیاؤں کا سراغ لگائے گی تو زیادہ طاقتور اور حساس جیمز ویب دوربین ان کا مزید تفصیلی جائزہ لے گی تاکہ اضافی معلومات حاصل کی جاسکیں۔مشن کی سینئر سائنس دان جولی میک اینری نے روانگی سے ایک روز قبل کہا تھا کہ رومن کی وسیع رسائی ماہرین کو عجیب، نایاب اور غیر معمولی چیزیں تلاش کرنے کے قابل بنائے گی۔ماہرین فلکیات کو توقع ہے کہ رومن تاریک مادے اور تاریک توانائی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرے گی، جو کائنات کا بیشتر حصہ تشکیل دیتے ہیں لیکن اب تک پوشیدہ ہیں۔ رومن کے ذریعے تیار ہونے والی کہکشاؤں کی فہرست سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے گی کہ ان پراسرار اور نظر نہ آنے والی قوتوں کے باعث کائنات کس رفتار سے پھیل رہی ہے۔رومن کی سب سے بڑی طاقت اس کی رفتار ہے۔ ملکی وے کہکشاں کے ایک ماہ کے مشاہدے کو مکمل کرنے میں ہبل کو ایک صدی لگے گی، جبکہ رومن کہکشاں کے عین مرکز میں موجود ابھار کا انتہائی تیزی سے جائزہ لے سکے گی، جس سے ہماری کہکشاں کے مرکز کا اب تک کا سب سے گہرا مشاہدہ ممکن ہوگا۔