تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

قومی کلاؤڈ پالیسی پر عملدرآمد چار سال بعد بھی ادھورا

قومی کلاؤڈ پالیسی پر عملدرآمد چار سال بعد بھی ادھورا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان کی پہلی قومی کلاؤڈ پالیسی کی منظوری کو چار سال گزرنے کے باوجود اس پر مؤثر عملدرآمد نہ ہو سکا، جس کے باعث حساس اور شہری ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق اہم اہداف تاحال مکمل نہیں ہو سکے۔ذرائع کے مطابق پالیسی کے تحت سرکاری اداروں کو الگ الگ ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے بجائے قومی کلاؤڈ نظام اختیار کرنا تھا تاکہ حساس سرکاری اور شہری ڈیٹا ملک کے اندر محفوظ سرورز پر رکھا جا سکے، تاہم اس پر مکمل عمل نہیں ہو سکا۔آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چار برس گزرنے کے باوجود ڈیٹا سینٹرز کی لائسنسنگ کا نظام نافذ نہیں کیا جا سکا۔ رپورٹ کے مطابق غیر رجسٹرڈ ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے سائبر سکیورٹی اور ریگولیٹری نگرانی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔آڈٹ کے مطابق پالیسی میں ڈیٹا سینٹرز کی لائسنسنگ، ڈیٹا سکیورٹی، جدید انفراسٹرکچر کی فراہمی اور سرکاری ڈیٹا کو کلاؤڈ پر منتقل کرنے جیسے اقدامات شامل تھے، تاہم پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) تاحال لائسنسنگ کا فریم ورک تیار نہیں کر سکی۔پی ٹی اے نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ نیا لائسنسنگ فریم ورک تیاری کے مراحل میں ہے، تاہم روایتی لائسنسنگ نظام نافذ نہیں کیا گیا۔آڈٹ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت بھی ڈیٹا سینٹرز کی لائسنسنگ لازمی تھی، لیکن اس پر عمل نہ ہونے کے باعث ڈیٹا سکیورٹی اور ریگولیٹری نگرانی کو خطرات لاحق ہیں۔