تازہ ترین
انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی
پاکستان خبر

قومی کلاؤڈ پالیسی پر عملدرآمد چار سال بعد بھی ادھورا

قومی کلاؤڈ پالیسی پر عملدرآمد چار سال بعد بھی ادھورا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان کی پہلی قومی کلاؤڈ پالیسی کی منظوری کو چار سال گزرنے کے باوجود اس پر مؤثر عملدرآمد نہ ہو سکا، جس کے باعث حساس اور شہری ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق اہم اہداف تاحال مکمل نہیں ہو سکے۔ذرائع کے مطابق پالیسی کے تحت سرکاری اداروں کو الگ الگ ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے بجائے قومی کلاؤڈ نظام اختیار کرنا تھا تاکہ حساس سرکاری اور شہری ڈیٹا ملک کے اندر محفوظ سرورز پر رکھا جا سکے، تاہم اس پر مکمل عمل نہیں ہو سکا۔آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چار برس گزرنے کے باوجود ڈیٹا سینٹرز کی لائسنسنگ کا نظام نافذ نہیں کیا جا سکا۔ رپورٹ کے مطابق غیر رجسٹرڈ ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے سائبر سکیورٹی اور ریگولیٹری نگرانی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔آڈٹ کے مطابق پالیسی میں ڈیٹا سینٹرز کی لائسنسنگ، ڈیٹا سکیورٹی، جدید انفراسٹرکچر کی فراہمی اور سرکاری ڈیٹا کو کلاؤڈ پر منتقل کرنے جیسے اقدامات شامل تھے، تاہم پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) تاحال لائسنسنگ کا فریم ورک تیار نہیں کر سکی۔پی ٹی اے نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ نیا لائسنسنگ فریم ورک تیاری کے مراحل میں ہے، تاہم روایتی لائسنسنگ نظام نافذ نہیں کیا گیا۔آڈٹ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت بھی ڈیٹا سینٹرز کی لائسنسنگ لازمی تھی، لیکن اس پر عمل نہ ہونے کے باعث ڈیٹا سکیورٹی اور ریگولیٹری نگرانی کو خطرات لاحق ہیں۔