تازہ ترین
وزیراعظم کی عازمین حج کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت سمر انٹرن شپ؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ سے خصوصی نشست بھارتی آپریشن سندور کی ڈاکومینٹری حقائق کے منافی ہے: آئی ایس پی آر بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک طالبان حکومت کیخلاف 24 شہروں میں احتجاج، خواتین کے حقوق کا مطالبہ امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا تہران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ میلانیا ٹرمپ کی محدود عوامی سرگرمیاں، نئی بحث چھڑ گئی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بدستور شدید متاثر امریکی تیل کے اسٹریٹجک ذخائر 44 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے پی ٹی وی کیلئے 13 ارب روپے کی اضافی گرانٹ منظور اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس 1 لاکھ 80 ہزار 602 پوائنٹس پر پہنچ گیا سندھ میں گیس کا اہم ذخیرہ دریافت، نئی ایکسپلوریشن راہ کھل گئی بجلی صارفین پر 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے 4 فاسٹ بولرز کھلانے پر غور انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ، بابر اعظم کی شرکت میڈیکل کلیئرنس سے مشروط رونالڈو اور جارجینا کی گھر میں سادہ شادی، بڑی تقریب بعد میں ہوگی
پاکستان خبر

قومی کلاؤڈ پالیسی پر عملدرآمد چار سال بعد بھی ادھورا

قومی کلاؤڈ پالیسی پر عملدرآمد چار سال بعد بھی ادھورا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان کی پہلی قومی کلاؤڈ پالیسی کی منظوری کو چار سال گزرنے کے باوجود اس پر مؤثر عملدرآمد نہ ہو سکا، جس کے باعث حساس اور شہری ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق اہم اہداف تاحال مکمل نہیں ہو سکے۔ذرائع کے مطابق پالیسی کے تحت سرکاری اداروں کو الگ الگ ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے بجائے قومی کلاؤڈ نظام اختیار کرنا تھا تاکہ حساس سرکاری اور شہری ڈیٹا ملک کے اندر محفوظ سرورز پر رکھا جا سکے، تاہم اس پر مکمل عمل نہیں ہو سکا۔آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چار برس گزرنے کے باوجود ڈیٹا سینٹرز کی لائسنسنگ کا نظام نافذ نہیں کیا جا سکا۔ رپورٹ کے مطابق غیر رجسٹرڈ ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے سائبر سکیورٹی اور ریگولیٹری نگرانی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔آڈٹ کے مطابق پالیسی میں ڈیٹا سینٹرز کی لائسنسنگ، ڈیٹا سکیورٹی، جدید انفراسٹرکچر کی فراہمی اور سرکاری ڈیٹا کو کلاؤڈ پر منتقل کرنے جیسے اقدامات شامل تھے، تاہم پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) تاحال لائسنسنگ کا فریم ورک تیار نہیں کر سکی۔پی ٹی اے نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ نیا لائسنسنگ فریم ورک تیاری کے مراحل میں ہے، تاہم روایتی لائسنسنگ نظام نافذ نہیں کیا گیا۔آڈٹ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت بھی ڈیٹا سینٹرز کی لائسنسنگ لازمی تھی، لیکن اس پر عمل نہ ہونے کے باعث ڈیٹا سکیورٹی اور ریگولیٹری نگرانی کو خطرات لاحق ہیں۔