کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)سائنس دانوں نے پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے فضلے اور صاف توانائی کی ضرورت جیسے دو بڑے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے پلاسٹک کے کچرے کو صاف ہائیڈروجن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق اس طریقہ کار کو الکلائن تھرمل ٹریٹمنٹ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل روایتی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں کم درجہ حرارت پر زیادہ خالص ہائیڈروجن پیدا کرتا ہے، جبکہ پلاسٹک کے کچرے کی پیچیدہ چھانٹی کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس عمل کے دوران براہِ راست گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بھی نہیں ہوتا۔ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں پلاسٹک کے فضلے کا صرف ایک محدود حصہ ہی دوبارہ استعمال کے قابل بن پاتا ہے، کیونکہ اس کی صفائی اور علیحدگی کا عمل مہنگا اور پیچیدہ ہوتا ہے۔جنوبی کوریا کی ایوا ویمنز یونیورسٹی کے پروفیسر وو جے کِم کے مطابق استعمال شدہ پلاسٹک اکثر خوراک کے ذرات، چپکنے والے مواد، لیبلز، رنگوں اور دیگر کیمیائی اجزا سے آلودہ ہوتا ہے، جبکہ کئی مصنوعات مختلف تہوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ان کی ری سائیکلنگ مزید مشکل ہو جاتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں پلاسٹک کے فضلے میں کمی، ماحول کے تحفظ اور کم کاربن والی صاف توانائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔