تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

پلاسٹک کے فضلے سے صاف ہائیڈروجن بنانے کا نیا طریقہ دریافت

پلاسٹک کے فضلے سے صاف ہائیڈروجن بنانے کا نیا طریقہ دریافت

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)سائنس دانوں نے پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے فضلے اور صاف توانائی کی ضرورت جیسے دو بڑے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے پلاسٹک کے کچرے کو صاف ہائیڈروجن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق اس طریقہ کار کو الکلائن تھرمل ٹریٹمنٹ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل روایتی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں کم درجہ حرارت پر زیادہ خالص ہائیڈروجن پیدا کرتا ہے، جبکہ پلاسٹک کے کچرے کی پیچیدہ چھانٹی کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس عمل کے دوران براہِ راست گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بھی نہیں ہوتا۔ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں پلاسٹک کے فضلے کا صرف ایک محدود حصہ ہی دوبارہ استعمال کے قابل بن پاتا ہے، کیونکہ اس کی صفائی اور علیحدگی کا عمل مہنگا اور پیچیدہ ہوتا ہے۔جنوبی کوریا کی ایوا ویمنز یونیورسٹی کے پروفیسر وو جے کِم کے مطابق استعمال شدہ پلاسٹک اکثر خوراک کے ذرات، چپکنے والے مواد، لیبلز، رنگوں اور دیگر کیمیائی اجزا سے آلودہ ہوتا ہے، جبکہ کئی مصنوعات مختلف تہوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ان کی ری سائیکلنگ مزید مشکل ہو جاتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں پلاسٹک کے فضلے میں کمی، ماحول کے تحفظ اور کم کاربن والی صاف توانائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔