تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

پلاسٹک کے فضلے سے صاف ہائیڈروجن بنانے کا نیا طریقہ دریافت

پلاسٹک کے فضلے سے صاف ہائیڈروجن بنانے کا نیا طریقہ دریافت

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)سائنس دانوں نے پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے فضلے اور صاف توانائی کی ضرورت جیسے دو بڑے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے پلاسٹک کے کچرے کو صاف ہائیڈروجن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق اس طریقہ کار کو الکلائن تھرمل ٹریٹمنٹ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل روایتی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں کم درجہ حرارت پر زیادہ خالص ہائیڈروجن پیدا کرتا ہے، جبکہ پلاسٹک کے کچرے کی پیچیدہ چھانٹی کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس عمل کے دوران براہِ راست گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بھی نہیں ہوتا۔ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں پلاسٹک کے فضلے کا صرف ایک محدود حصہ ہی دوبارہ استعمال کے قابل بن پاتا ہے، کیونکہ اس کی صفائی اور علیحدگی کا عمل مہنگا اور پیچیدہ ہوتا ہے۔جنوبی کوریا کی ایوا ویمنز یونیورسٹی کے پروفیسر وو جے کِم کے مطابق استعمال شدہ پلاسٹک اکثر خوراک کے ذرات، چپکنے والے مواد، لیبلز، رنگوں اور دیگر کیمیائی اجزا سے آلودہ ہوتا ہے، جبکہ کئی مصنوعات مختلف تہوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ان کی ری سائیکلنگ مزید مشکل ہو جاتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں پلاسٹک کے فضلے میں کمی، ماحول کے تحفظ اور کم کاربن والی صاف توانائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔