تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

پلاسٹک کے فضلے سے صاف ہائیڈروجن بنانے کا نیا طریقہ دریافت

پلاسٹک کے فضلے سے صاف ہائیڈروجن بنانے کا نیا طریقہ دریافت

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)سائنس دانوں نے پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے فضلے اور صاف توانائی کی ضرورت جیسے دو بڑے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے پلاسٹک کے کچرے کو صاف ہائیڈروجن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق اس طریقہ کار کو الکلائن تھرمل ٹریٹمنٹ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل روایتی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں کم درجہ حرارت پر زیادہ خالص ہائیڈروجن پیدا کرتا ہے، جبکہ پلاسٹک کے کچرے کی پیچیدہ چھانٹی کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس عمل کے دوران براہِ راست گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بھی نہیں ہوتا۔ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں پلاسٹک کے فضلے کا صرف ایک محدود حصہ ہی دوبارہ استعمال کے قابل بن پاتا ہے، کیونکہ اس کی صفائی اور علیحدگی کا عمل مہنگا اور پیچیدہ ہوتا ہے۔جنوبی کوریا کی ایوا ویمنز یونیورسٹی کے پروفیسر وو جے کِم کے مطابق استعمال شدہ پلاسٹک اکثر خوراک کے ذرات، چپکنے والے مواد، لیبلز، رنگوں اور دیگر کیمیائی اجزا سے آلودہ ہوتا ہے، جبکہ کئی مصنوعات مختلف تہوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ان کی ری سائیکلنگ مزید مشکل ہو جاتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں پلاسٹک کے فضلے میں کمی، ماحول کے تحفظ اور کم کاربن والی صاف توانائی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔