بیجنگ( ویب ڈیسک)چین کے سائنس دانوں نے شمسی توانائی کی مدد سے سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کی ٹیکنالوجی میں اہم پیشرفت حاصل کر لی ہے، جس سے مستقبل میں صاف پانی کی پیداوار کی لاگت بوتل بند پانی سے بھی کم ہونے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں میٹھے پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے باعث پانی کو صاف کرنے اور دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم موجودہ طریقۂ کار زیادہ تر فوسل فیول پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں ان کا استعمال مہنگا ثابت ہوتا ہے۔چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے محققین نے ایک جدید تھری ڈی اسٹرکچر تیار کیا ہے، جو سورج کی حرارت کے ذریعے پانی کو بخارات میں تبدیل کرنے کے عمل کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔سائنس دانوں کے مطابق اس نئے ڈھانچے میں مضبوطی سے جڑی پولیمر زنجیریں اور کھوکھلے خول نما حصے شامل ہیں، جن کی مدد سے پانی کے بخارات بننے کی رفتار پہلے سے موجود ٹیکنالوجی کے مقابلے میں 8.5 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی مستقبل میں شمسی توانائی کے ذریعے کم لاگت میں سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے اور دنیا میں پانی کی کمی کے مسئلے سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
چین میں شمسی توانائی سے سمندری پانی صاف کرنے کی نئی ٹیکنالوجی تیار
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی