تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کی فائل حذف کرنے سے متعلق مسئلے کا اعتراف کر لیا

اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کی فائل حذف کرنے سے متعلق مسئلے کا اعتراف کر لیا

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی نے تسلیم کیا ہے کہ بعض حالات میں چیٹ جی پی ٹی کا پروگرامنگ پلیٹ فارم صارف کی واضح اجازت کے بغیر فائلیں حذف کر سکتا ہے، جس کے بعد حفاظتی نظام مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔حالیہ دنوں میں کوڈیکس پلیٹ فارم استعمال کرنے والے متعدد صارفین نے شکایت کی کہ مصنوعی ذہانت نے پیشگی اطلاع یا اجازت کے بغیر ان کی فائلیں حذف کر دیں۔سافٹ ویئر انجینئر برونو لیموس نے دعویٰ کیا کہ کوڈیکس نے ان کا مکمل پروڈکشن ڈیٹا بیس حذف کر دیا، جبکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ سرمایہ کار میٹ شیومر کے مطابق اس ٹول نے غلطی سے ان کے میک کمپیوٹر کی تقریباً تمام فائلیں مٹا دیں۔مصنوعی ذہانت کے ماہر گیری مارکس نے کہا کہ اس نوعیت کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ مصنوعی ذہانت کے نظام پر مکمل انحصار کرنا مناسب نہیں، اور مؤثر حفاظتی اقدامات کے بغیر ان کا استعمال خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ ان رپورٹس کے بعد کوڈیکس میں حفاظتی اقدامات، اجازت کے نظام اور صارف کے کنٹرول کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔