کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی نے تسلیم کیا ہے کہ بعض حالات میں چیٹ جی پی ٹی کا پروگرامنگ پلیٹ فارم صارف کی واضح اجازت کے بغیر فائلیں حذف کر سکتا ہے، جس کے بعد حفاظتی نظام مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔حالیہ دنوں میں کوڈیکس پلیٹ فارم استعمال کرنے والے متعدد صارفین نے شکایت کی کہ مصنوعی ذہانت نے پیشگی اطلاع یا اجازت کے بغیر ان کی فائلیں حذف کر دیں۔سافٹ ویئر انجینئر برونو لیموس نے دعویٰ کیا کہ کوڈیکس نے ان کا مکمل پروڈکشن ڈیٹا بیس حذف کر دیا، جبکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ سرمایہ کار میٹ شیومر کے مطابق اس ٹول نے غلطی سے ان کے میک کمپیوٹر کی تقریباً تمام فائلیں مٹا دیں۔مصنوعی ذہانت کے ماہر گیری مارکس نے کہا کہ اس نوعیت کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ مصنوعی ذہانت کے نظام پر مکمل انحصار کرنا مناسب نہیں، اور مؤثر حفاظتی اقدامات کے بغیر ان کا استعمال خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ ان رپورٹس کے بعد کوڈیکس میں حفاظتی اقدامات، اجازت کے نظام اور صارف کے کنٹرول کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کی فائل حذف کرنے سے متعلق مسئلے کا اعتراف کر لیا
واپس خبروں پر
Category:
ٹیکنالوجی