تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

غیر فعال سم پر واٹس ایپ متاثر ہو سکتا ہے، پی ٹی اے

غیر فعال سم پر واٹس ایپ متاثر ہو سکتا ہے، پی ٹی اے

 اسلام آباد( ویب ڈیسک)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے واٹس ایپ صارفین کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غیر فعال یا غیر رجسٹرڈ سم سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس متاثر ہو سکتے ہیں۔پی ٹی اے حکام کے مطابق بلاک یا غیر فعال سم سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس تک رسائی ختم ہونے کا امکان ہے، اس لیے صارفین کو اکاؤنٹ کے اچانک لاگ آؤٹ ہونے سے پہلے ضروری اقدامات کر لینے چاہییں۔اتھارٹی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو فعال اور رجسٹرڈ سم کے ساتھ منسلک رکھیں اور فوری طور پر اس بات کی تصدیق کریں کہ ان کا واٹس ایپ نمبر فعال سم پر ہی چل رہا ہے۔پی ٹی اے کے مطابق جو صارفین غیر فعال سم استعمال کر رہے ہیں، وہ جلد از جلد فعال سم پر منتقل ہو جائیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر قریبی فرنچائز یا کسٹمر سروس مرکز سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔حکام نے مزید کہا کہ بائیومیٹرک تصدیق اور سم کی توثیق مکمل کروانا ضروری ہے تاکہ واٹس ایپ اکاؤنٹ، رابطوں اور ڈیجیٹل شناخت کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق موبائل نمبر صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ صارف کی ڈیجیٹل شناخت کا بھی اہم حصہ ہے، اس لیے اس کے تحفظ کے لیے احتیاطی اقدامات ناگزیر ہیں۔