تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

اوپن اے آئی کی امریکی حکومت کو 5 فیصد حصص دینے کی تجویز، رپورٹ

اوپن اے آئی کی امریکی حکومت کو 5 فیصد حصص دینے کی تجویز، رپورٹ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے مبینہ طور پر امریکی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کو کمپنی میں پانچ فیصد حصص دینے کی تجویز پیش کی ہے۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے باخبر دو افراد کا کہنا ہے کہ یہ تجویز کمپنی کی متوقع ابتدائی عوامی شیئرز کی فروخت (آئی پی او) سے قبل حکومت کے ساتھ ممکنہ اختلافات کم کرنے کے مقصد سے دی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوپن اے آئی نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ دیگر امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں، جن میں اینتھروپک بھی شامل ہے، وہ بھی امریکی حکومت کو اپنی کمپنیوں میں اسی نوعیت کے حصص دینے پر غور کریں۔یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکومت اہم کمپنیوں میں سرمایہ کاری یا حصص حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال حکومت نے انٹیل میں تقریباً 10 فیصد جبکہ ایم پی میٹیریلز میں 15 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال اور اس کے باعث ممکنہ معاشی اثرات، بالخصوص ملازمتوں میں کمی کے خدشات، پر عوامی تشویش میں اضافے کے بعد اوپن اے آئی کی یہ تجویز حکومت کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور ریگولیٹری ماحول کو سازگار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔تاہم، اوپن اے آئی اور امریکی حکومت کی جانب سے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔