واشنگٹن (ویب ڈیسک) مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے مبینہ طور پر امریکی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کو کمپنی میں پانچ فیصد حصص دینے کی تجویز پیش کی ہے۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے باخبر دو افراد کا کہنا ہے کہ یہ تجویز کمپنی کی متوقع ابتدائی عوامی شیئرز کی فروخت (آئی پی او) سے قبل حکومت کے ساتھ ممکنہ اختلافات کم کرنے کے مقصد سے دی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوپن اے آئی نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ دیگر امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں، جن میں اینتھروپک بھی شامل ہے، وہ بھی امریکی حکومت کو اپنی کمپنیوں میں اسی نوعیت کے حصص دینے پر غور کریں۔یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکومت اہم کمپنیوں میں سرمایہ کاری یا حصص حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال حکومت نے انٹیل میں تقریباً 10 فیصد جبکہ ایم پی میٹیریلز میں 15 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال اور اس کے باعث ممکنہ معاشی اثرات، بالخصوص ملازمتوں میں کمی کے خدشات، پر عوامی تشویش میں اضافے کے بعد اوپن اے آئی کی یہ تجویز حکومت کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور ریگولیٹری ماحول کو سازگار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔تاہم، اوپن اے آئی اور امریکی حکومت کی جانب سے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔