تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

روسی خلائی جہاز سویوز ایم ایس-29 کامیابی سے مدار میں پہنچ گیا

روسی خلائی جہاز سویوز ایم ایس-29 کامیابی سے مدار میں پہنچ گیا

ماسکو( ویب ڈیسک) روسی خلائی ادارے روس کاسموس کا انسان بردار خلائی جہاز سویوز ایم ایس-29 کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں داخل ہو گیا ہے، جبکہ اس کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے الحاق متوقع ہے۔روس کاسموس کے مطابق خلائی جہاز کی روانگی اور مدار تک رسائی کا مرحلہ طے شدہ منصوبے کے مطابق مکمل ہوا۔ یہ 75ویں طویل المدتی خلائی مشن ہے، جس کا عملہ تیز رفتار دو چکروں پر مشتمل پرواز کے ذریعے تقریباً تین گھنٹوں میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک پہنچے گا۔خلائی ادارے کے مطابق سویوز ایم ایس-29 کی آئی ایس ایس کے ساتھ ڈاکنگ پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 56 منٹ پر متوقع ہے۔ الحاق کے بعد خلائی اسٹیشن کے دروازے کھولے جائیں گے، جس کے بعد روسی خلا باز پیوتر دوبروف، آنا کیکینا اور ناسا کے خلا باز انیل مینن اسٹیشن میں داخل ہوں گے۔روس کاسموس کے مطابق مشن پر موجود عملہ تقریباً 261 روز تک خلا میں قیام کرے گا، جہاں وہ 38 مختلف سائنسی تجربات انجام دے گا۔ ان تحقیقی منصوبوں میں گازوآنالیزاتور-ایف ایس، ٹیلی ڈروئیڈ اور سولنتسے-ٹیرا ہرٹز جیسے اہم تجربات شامل ہیں۔روسی خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ ان تجربات کا مقصد خلائی تحقیق کو مزید وسعت دینا، جدید ٹیکنالوجی کا جائزہ لینا اور مستقبل کے انسان بردار خلائی مشنز کے لیے نئی سائنسی معلومات حاصل کرنا ہے۔