تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

روسی خلائی جہاز سویوز ایم ایس-29 کامیابی سے مدار میں پہنچ گیا

روسی خلائی جہاز سویوز ایم ایس-29 کامیابی سے مدار میں پہنچ گیا

ماسکو( ویب ڈیسک) روسی خلائی ادارے روس کاسموس کا انسان بردار خلائی جہاز سویوز ایم ایس-29 کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں داخل ہو گیا ہے، جبکہ اس کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے الحاق متوقع ہے۔روس کاسموس کے مطابق خلائی جہاز کی روانگی اور مدار تک رسائی کا مرحلہ طے شدہ منصوبے کے مطابق مکمل ہوا۔ یہ 75ویں طویل المدتی خلائی مشن ہے، جس کا عملہ تیز رفتار دو چکروں پر مشتمل پرواز کے ذریعے تقریباً تین گھنٹوں میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک پہنچے گا۔خلائی ادارے کے مطابق سویوز ایم ایس-29 کی آئی ایس ایس کے ساتھ ڈاکنگ پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 56 منٹ پر متوقع ہے۔ الحاق کے بعد خلائی اسٹیشن کے دروازے کھولے جائیں گے، جس کے بعد روسی خلا باز پیوتر دوبروف، آنا کیکینا اور ناسا کے خلا باز انیل مینن اسٹیشن میں داخل ہوں گے۔روس کاسموس کے مطابق مشن پر موجود عملہ تقریباً 261 روز تک خلا میں قیام کرے گا، جہاں وہ 38 مختلف سائنسی تجربات انجام دے گا۔ ان تحقیقی منصوبوں میں گازوآنالیزاتور-ایف ایس، ٹیلی ڈروئیڈ اور سولنتسے-ٹیرا ہرٹز جیسے اہم تجربات شامل ہیں۔روسی خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ ان تجربات کا مقصد خلائی تحقیق کو مزید وسعت دینا، جدید ٹیکنالوجی کا جائزہ لینا اور مستقبل کے انسان بردار خلائی مشنز کے لیے نئی سائنسی معلومات حاصل کرنا ہے۔