تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

روسی خلائی جہاز سویوز ایم ایس-29 کامیابی سے مدار میں پہنچ گیا

روسی خلائی جہاز سویوز ایم ایس-29 کامیابی سے مدار میں پہنچ گیا

ماسکو( ویب ڈیسک) روسی خلائی ادارے روس کاسموس کا انسان بردار خلائی جہاز سویوز ایم ایس-29 کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں داخل ہو گیا ہے، جبکہ اس کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے الحاق متوقع ہے۔روس کاسموس کے مطابق خلائی جہاز کی روانگی اور مدار تک رسائی کا مرحلہ طے شدہ منصوبے کے مطابق مکمل ہوا۔ یہ 75ویں طویل المدتی خلائی مشن ہے، جس کا عملہ تیز رفتار دو چکروں پر مشتمل پرواز کے ذریعے تقریباً تین گھنٹوں میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک پہنچے گا۔خلائی ادارے کے مطابق سویوز ایم ایس-29 کی آئی ایس ایس کے ساتھ ڈاکنگ پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 56 منٹ پر متوقع ہے۔ الحاق کے بعد خلائی اسٹیشن کے دروازے کھولے جائیں گے، جس کے بعد روسی خلا باز پیوتر دوبروف، آنا کیکینا اور ناسا کے خلا باز انیل مینن اسٹیشن میں داخل ہوں گے۔روس کاسموس کے مطابق مشن پر موجود عملہ تقریباً 261 روز تک خلا میں قیام کرے گا، جہاں وہ 38 مختلف سائنسی تجربات انجام دے گا۔ ان تحقیقی منصوبوں میں گازوآنالیزاتور-ایف ایس، ٹیلی ڈروئیڈ اور سولنتسے-ٹیرا ہرٹز جیسے اہم تجربات شامل ہیں۔روسی خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ ان تجربات کا مقصد خلائی تحقیق کو مزید وسعت دینا، جدید ٹیکنالوجی کا جائزہ لینا اور مستقبل کے انسان بردار خلائی مشنز کے لیے نئی سائنسی معلومات حاصل کرنا ہے۔