تازہ ترین
وزیراعظم کی عازمین حج کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت سمر انٹرن شپ؛ ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ سے خصوصی نشست بھارتی آپریشن سندور کی ڈاکومینٹری حقائق کے منافی ہے: آئی ایس پی آر بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک طالبان حکومت کیخلاف 24 شہروں میں احتجاج، خواتین کے حقوق کا مطالبہ امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا تہران سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ میلانیا ٹرمپ کی محدود عوامی سرگرمیاں، نئی بحث چھڑ گئی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بدستور شدید متاثر امریکی تیل کے اسٹریٹجک ذخائر 44 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے پی ٹی وی کیلئے 13 ارب روپے کی اضافی گرانٹ منظور اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس 1 لاکھ 80 ہزار 602 پوائنٹس پر پہنچ گیا سندھ میں گیس کا اہم ذخیرہ دریافت، نئی ایکسپلوریشن راہ کھل گئی بجلی صارفین پر 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان انگلینڈ کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلئے 4 فاسٹ بولرز کھلانے پر غور انگلینڈ کیخلاف پہلا ٹیسٹ، بابر اعظم کی شرکت میڈیکل کلیئرنس سے مشروط رونالڈو اور جارجینا کی گھر میں سادہ شادی، بڑی تقریب بعد میں ہوگی
پاکستان خبر

روسی خلائی جہاز سویوز ایم ایس-29 کامیابی سے مدار میں پہنچ گیا

روسی خلائی جہاز سویوز ایم ایس-29 کامیابی سے مدار میں پہنچ گیا

ماسکو( ویب ڈیسک) روسی خلائی ادارے روس کاسموس کا انسان بردار خلائی جہاز سویوز ایم ایس-29 کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں داخل ہو گیا ہے، جبکہ اس کا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے الحاق متوقع ہے۔روس کاسموس کے مطابق خلائی جہاز کی روانگی اور مدار تک رسائی کا مرحلہ طے شدہ منصوبے کے مطابق مکمل ہوا۔ یہ 75ویں طویل المدتی خلائی مشن ہے، جس کا عملہ تیز رفتار دو چکروں پر مشتمل پرواز کے ذریعے تقریباً تین گھنٹوں میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک پہنچے گا۔خلائی ادارے کے مطابق سویوز ایم ایس-29 کی آئی ایس ایس کے ساتھ ڈاکنگ پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 56 منٹ پر متوقع ہے۔ الحاق کے بعد خلائی اسٹیشن کے دروازے کھولے جائیں گے، جس کے بعد روسی خلا باز پیوتر دوبروف، آنا کیکینا اور ناسا کے خلا باز انیل مینن اسٹیشن میں داخل ہوں گے۔روس کاسموس کے مطابق مشن پر موجود عملہ تقریباً 261 روز تک خلا میں قیام کرے گا، جہاں وہ 38 مختلف سائنسی تجربات انجام دے گا۔ ان تحقیقی منصوبوں میں گازوآنالیزاتور-ایف ایس، ٹیلی ڈروئیڈ اور سولنتسے-ٹیرا ہرٹز جیسے اہم تجربات شامل ہیں۔روسی خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ ان تجربات کا مقصد خلائی تحقیق کو مزید وسعت دینا، جدید ٹیکنالوجی کا جائزہ لینا اور مستقبل کے انسان بردار خلائی مشنز کے لیے نئی سائنسی معلومات حاصل کرنا ہے۔