تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

بلیک ہول کی سرحد کے شواہد ملنے کا دعویٰ

بلیک ہول کی سرحد کے شواہد ملنے کا دعویٰ

نیو یارک( ویب ڈیسک)سائنسدانوں نے پہلی بار بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن، یعنی اس سرحد کے نشانات دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔بین الاقوامی تحقیقی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ پیش رفت دو بلیک ہولز کے شدید تصادم سے پیدا ہونے والی ثقلی لہروں کے تجزیے کے ذریعے ممکن ہوئی۔ایونٹ ہورائزن کو بلیک ہول کا "واپسی نہ ہونے کا مقام" بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس سرحد کو عبور کرنے کے بعد نہ روشنی اور نہ ہی کوئی مادہ واپس آ سکتا ہے، جس کے باعث اس خطے کا براہِ راست مطالعہ ہمیشہ سے سائنسدانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔تحقیق کے مطابق جب دو بلیک ہول آپس میں ضم ہو کر ایک بڑا بلیک ہول بناتے ہیں تو اس عمل کے دوران طاقتور ثقلی لہریں پیدا ہوتی ہیں، جنہیں سائنسدان گزشتہ ایک دہائی سے ریکارڈ کر رہے ہیں۔محققین نے تصادم کے آخری مرحلے میں پیدا ہونے والی مخصوص لہروں کا تجزیہ کرتے ہوئے ایونٹ ہورائزن کے انتہائی قریب موجود علاقے سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ڈاکٹر سِژینگ ما، جو پیری میٹر انسٹی ٹیوٹ فار تھیوریٹیکل فزکس سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ بلیک ہول کا ایونٹ ہورائزن اب تک سائنسی افسانوں کا حصہ محسوس ہوتا تھا، لیکن اب ثقلی لہروں کی مدد سے اس کے آس پاس کے علاقے کا مطالعہ ممکن ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔سائنسدانوں نے بلیک ہول کی گردش کے دوران خلا اور وقت کے مڑنے کے عمل، جسے فریم ڈریگنگ کہا جاتا ہے، کے شواہد بھی حاصل کیے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ نتائج عمومی نظریۂ اضافیت کی مزید تائید کرتے ہیں۔تاہم سائنسی حلقوں میں اس تحقیق پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض ماہرین نے نتائج کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے مزید آزادانہ تصدیق کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ کچھ سائنسدانوں نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا ہے کہ آیا ریکارڈ کی گئی ثقلی لہروں سے واقعی ایونٹ ہورائزن کی خصوصیات کا براہِ راست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔