تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

بلیک ہول کی سرحد کے شواہد ملنے کا دعویٰ

بلیک ہول کی سرحد کے شواہد ملنے کا دعویٰ

نیو یارک( ویب ڈیسک)سائنسدانوں نے پہلی بار بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن، یعنی اس سرحد کے نشانات دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔بین الاقوامی تحقیقی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ پیش رفت دو بلیک ہولز کے شدید تصادم سے پیدا ہونے والی ثقلی لہروں کے تجزیے کے ذریعے ممکن ہوئی۔ایونٹ ہورائزن کو بلیک ہول کا "واپسی نہ ہونے کا مقام" بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس سرحد کو عبور کرنے کے بعد نہ روشنی اور نہ ہی کوئی مادہ واپس آ سکتا ہے، جس کے باعث اس خطے کا براہِ راست مطالعہ ہمیشہ سے سائنسدانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔تحقیق کے مطابق جب دو بلیک ہول آپس میں ضم ہو کر ایک بڑا بلیک ہول بناتے ہیں تو اس عمل کے دوران طاقتور ثقلی لہریں پیدا ہوتی ہیں، جنہیں سائنسدان گزشتہ ایک دہائی سے ریکارڈ کر رہے ہیں۔محققین نے تصادم کے آخری مرحلے میں پیدا ہونے والی مخصوص لہروں کا تجزیہ کرتے ہوئے ایونٹ ہورائزن کے انتہائی قریب موجود علاقے سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ڈاکٹر سِژینگ ما، جو پیری میٹر انسٹی ٹیوٹ فار تھیوریٹیکل فزکس سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ بلیک ہول کا ایونٹ ہورائزن اب تک سائنسی افسانوں کا حصہ محسوس ہوتا تھا، لیکن اب ثقلی لہروں کی مدد سے اس کے آس پاس کے علاقے کا مطالعہ ممکن ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔سائنسدانوں نے بلیک ہول کی گردش کے دوران خلا اور وقت کے مڑنے کے عمل، جسے فریم ڈریگنگ کہا جاتا ہے، کے شواہد بھی حاصل کیے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ نتائج عمومی نظریۂ اضافیت کی مزید تائید کرتے ہیں۔تاہم سائنسی حلقوں میں اس تحقیق پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض ماہرین نے نتائج کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے مزید آزادانہ تصدیق کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ کچھ سائنسدانوں نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا ہے کہ آیا ریکارڈ کی گئی ثقلی لہروں سے واقعی ایونٹ ہورائزن کی خصوصیات کا براہِ راست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔