تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

شدید شمسی طوفان ٹیکنالوجی اور مواصلاتی نظام کے لیے بڑا خطرہ قرار

شدید شمسی طوفان ٹیکنالوجی اور مواصلاتی نظام کے لیے بڑا خطرہ قرار

کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ شمسی طوفان اور شدید خلائی موسم کے اثرات ماضی کے اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں عالمی ٹیکنالوجی، مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق خلائی موسم زمین کے مقناطیسی میدان اور اس کی بالائی فضائی تہوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ ماضی میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ زمین کا مقناطیسی میدان شدید شمسی طوفانوں کے اثرات کو ایک مخصوص حد تک مؤثر انداز میں روک لیتا ہے، لیکن نئی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شمسی ہواؤں کی طاقت کے بارے میں سائنسی اندازوں میں موجود ایک بنیادی غلطی کے باعث زمین کے قدرتی دفاعی نظام کی صلاحیت کو زیادہ سمجھا جاتا رہا۔ اس نئی دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید خلائی موسم سیٹلائٹس، جی پی ایس، مواصلاتی نظام اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر پہلے سے کہیں زیادہ سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔تحقیق کی سربراہ ماریا والاخ کے مطابق زمین کا مقناطیسی میدان عام حالات میں ہمیں خلائی موسم کے زیادہ تر اثرات سے محفوظ رکھتا ہے، جس کے باعث عموماً صرف معمولی تکنیکی خرابیاں یا قطبی روشنیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ تاہم، انتہائی شدید شمسی طوفانوں کے دوران سیٹلائٹس کا مدار متاثر ہو سکتا ہے، وہ زمین کی جانب تیزی سے گرنے لگتے ہیں اور مواصلاتی نظام کے ساتھ جی پی ایس سگنلز بھی شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔