کیلیفورنیا( ویب ڈیسک)سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ شمسی طوفان اور شدید خلائی موسم کے اثرات ماضی کے اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں عالمی ٹیکنالوجی، مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق خلائی موسم زمین کے مقناطیسی میدان اور اس کی بالائی فضائی تہوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ ماضی میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ زمین کا مقناطیسی میدان شدید شمسی طوفانوں کے اثرات کو ایک مخصوص حد تک مؤثر انداز میں روک لیتا ہے، لیکن نئی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شمسی ہواؤں کی طاقت کے بارے میں سائنسی اندازوں میں موجود ایک بنیادی غلطی کے باعث زمین کے قدرتی دفاعی نظام کی صلاحیت کو زیادہ سمجھا جاتا رہا۔ اس نئی دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید خلائی موسم سیٹلائٹس، جی پی ایس، مواصلاتی نظام اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر پہلے سے کہیں زیادہ سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔تحقیق کی سربراہ ماریا والاخ کے مطابق زمین کا مقناطیسی میدان عام حالات میں ہمیں خلائی موسم کے زیادہ تر اثرات سے محفوظ رکھتا ہے، جس کے باعث عموماً صرف معمولی تکنیکی خرابیاں یا قطبی روشنیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ تاہم، انتہائی شدید شمسی طوفانوں کے دوران سیٹلائٹس کا مدار متاثر ہو سکتا ہے، وہ زمین کی جانب تیزی سے گرنے لگتے ہیں اور مواصلاتی نظام کے ساتھ جی پی ایس سگنلز بھی شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔