نیروبی (ویب ڈیسک)افریقہ میں طبی سہولتوں تک رسائی ایک بڑا چیلنج ہے۔ براعظم کی تقریباً ایک تہائی آبادی ایسے علاقوں میں رہتی ہے جہاں طبی سہولت تک پہنچنے میں دو گھنٹے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد طبی مراکز میں بجلی دستیاب نہ ہونے کے باعث ضروری طبی آلات چلانا اور بعض طبی خدمات فراہم کرنا مشکل ہے۔اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے نیدرلینڈز کے طلبہ نے ’’اسٹیلا جووا‘‘ نامی منفرد شمسی توانائی سے چلنے والی ایمبولینس تیار کی ہے۔ گاڑی میں ایکسرے مشین، الٹراساؤنڈ اور ویکسین محفوظ رکھنے کے لیے ریفریجریٹر سمیت مختلف طبی آلات نصب ہیں۔سی این این کے مطابق گاڑی کی چھت پر سولر پینل لگائے گئے ہیں جو سفر کے دوران بھی توانائی پیدا کرتے ہیں۔ گاڑی کھڑی ہونے کی صورت میں اضافی سولر پینل باہر نکال کر پھیلا دیے جاتے ہیں، جس سے سورج کی روشنی حاصل کرنے کا رقبہ بڑھ جاتا اور زیادہ بجلی پیدا ہوتی ہے۔اسٹیلا جووا تیار کرنے والی سولر ٹیم آئندھوون میں 23 طلبہ شامل ہیں، جن کا تعلق آئندھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور دو دیگر تعلیمی اداروں سے ہے۔ ٹیم اسے دنیا کی پہلی شمسی توانائی سے چلنے والی ایمبولینس قرار دیتی ہے، تاہم اس کا بنیادی مقصد مریضوں کو اسپتال منتقل کرنا نہیں بلکہ طبی آلات اور انہیں چلانے کے لیے درکار توانائی دور دراز علاقوں تک پہنچانا ہے۔طلبہ نے رواں ماہ کینیا میں غیر سرکاری تنظیم امریف ہیلتھ افریقہ کے تعاون سے گاڑی کا عملی تجربہ کیا۔ اس کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا اسٹیلا جووا طویل فاصلے اور دشوار گزار راستوں پر سفر کرنے کے بعد دور افتادہ علاقوں میں صرف شمسی توانائی سے اپنے طبی آلات چلا سکتی ہے یا نہیں۔تجربے کے دوران گاڑی نے کینیا میں 800 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا، جس میں جنوب مغربی کینیا کے ناراک علاقے میں واقع موسرو کے ایک ایسے صحت مرکز کا سفر بھی شامل تھا جہاں بجلی دستیاب نہیں۔ مرکز تک پہنچنے کے لیے طلبہ نے کئی گھنٹے گرد آلود اور گڑھوں سے بھری کچی سڑک پر سفر کیا۔ٹیم کی رکن 22 سالہ ازابیلا واننگن کے مطابق گاڑی نے دشوار گزار راستے پر توقع سے بہتر کارکردگی دکھائی اور ٹیم ارکان اس کی کارکردگی دیکھ کر مثبت طور پر حیران ہوئے۔تجربے کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ جب اسٹیلا جووا ایک جگہ کھڑی تھی اور اس کے تمام طبی آلات بیک وقت کام کررہے تھے تو سولر پینل اتنی توانائی پیدا کررہے تھے جو گاڑی اور آلات کی مجموعی کھپت سے زیادہ تھی۔ طلبہ کے مطابق اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گاڑی روایتی ایندھن یا بجلی کے چارجنگ اسٹیشن سے منسلک ہوئے بغیر بھی کام کرسکتی ہے۔اس تجربے میں طبی آلات حقیقی مریضوں پر استعمال نہیں کیے گئے، تاہم سولر ٹیم آئندھوون اور امریف ہیلتھ افریقہ کے مطابق ان آلات کے ذریعے دو دن میں تقریباً 200 افراد کا علاج کیا جاسکتا تھا۔کینیا کے صحت ماہرین کے مطابق ایسے منصوبے بالخصوص ان علاقوں کے لیے اہم ثابت ہوسکتے ہیں جہاں بجلی نہ ہونے کے باعث طبی سہولتیں محدود ہیں۔امریف ہیلتھ افریقہ کے پروگرام منیجر جان کٹنا نے بتایا کہ بجلی کی عدم دستیابی کا اثر حاملہ خواتین پر بھی پڑتا ہے کیونکہ انہیں الٹراساؤنڈ جیسی ضروری سہولتیں آسانی سے میسر نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق ایسے علاقوں میں شمسی ایمبولینس انتہائی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔سولر ٹیم آئندھوون 2013 سے طلبہ کو ایک سالہ منصوبوں کے ذریعے ماحول دوست گاڑیاں تیار کرنے کے لیے اکٹھا کررہی ہے۔ اس سے قبل ٹیم شمسی توانائی سے چلنے والی کیمپر وین ’’اسٹیلا ویٹا‘‘ اور آف روڈ شمسی گاڑی ’’اسٹیلا ٹیرا‘‘ بھی تیار کرچکی ہے۔اب اسٹیلا جووا کو واپس نیدرلینڈز منتقل کیا جائے گا، تاہم طلبہ چاہتے ہیں کہ یہ منصوبہ صرف تجرباتی نمونہ بن کر نہ رہ جائے۔ ٹیم کے رکن یارنو باسٹن کے مطابق وہ صنعت اور معاشرے کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی ترغیب دینا چاہتے ہیں تاکہ سماجی مسائل کے نئے حل تلاش کیے جاسکیں۔تاہم گاڑی کو بڑے پیمانے پر استعمال میں لانے کے لیے مالی وسائل ایک اہم رکاوٹ ہوسکتے ہیں۔ کینیا کے صحت کے شعبے کو پہلے ہی فنڈز کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے بیرونی امداد میں کمی نے صورتحال کو مزید مشکل بنادیا ہے۔اس کے باوجود کینیا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیلا جووا کا کامیاب تجربہ مختلف سطحوں پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ اس سے مقامی طلبہ کو اپنی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے اور یہ بھی ثابت ہوسکتا ہے کہ ملک میں دستیاب سورج کی روشنی کو صحت کے شعبے میں عملی طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔